خاموش مزاح کے بادشاہ؛ ٹک ٹاک اسٹار نے 97 کروڑ ڈالرز میں اپنی کمپنی فروخت کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
بغیر کوئی ایک لفظ بولے دنیا کو ہنسانے والے ٹک ٹاک سپر اسٹار خابی لامے نے کاروباری میدان میں بھی میدان مارلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خابی لامے نے کورونا وبا میں فیکٹری کی نوکری ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا کا رخ کیا تھا۔
جہاں وہ خاموش مزاحیہ اداکاری کرتے تھے۔ جس سے لوگوں کو چارلی چپلن کی یاد آگئی اور ان کے فالورز کی تعداد بڑھتی گئی۔
یہاں تک کہ سینیگالی نژاد اطالوی خابی لامے کے ٹک ٹاک پر 161 ملین اور انسٹاگرام پر 77 ملین سے زائد فالوورز ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا یہ سفر آج عالمی شہرت اور اربوں ڈالر کے کاروبار تک پہنچ چکا ہے۔ جس کا انداز ان کے ایک حالیہ کاروباری اقدام سے لگایا جا سکتا ہے۔
ٹک تاک اسٹار خابی لامے نے اپنی کمپنی ’اسٹیپ ڈسٹنکٹیو لمیٹڈ‘ کو تقریباً 975 ملین ڈالرز میں فروخت کر دیا۔
یہ کمپنی ان کے عالمی برانڈ، اشتہاری معاہدوں اور کمرشل سرگرمیوں کا مرکز تھی جسے ہانگ کانگ کی پبلک لسٹڈ ہولڈنگ فرم رِچ اسپارکل نے خریدا۔
خریداری کے اس معاہدے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چین کی لائیو اسٹریمنگ اور ای کامرس کمپنی انہوئی ژیاؤہیانگ نیٹ ورک ٹیکنالوجی اگلے 36 ماہ تک خابی کے عالمی کمرشل منصوبوں کی خصوصی آپریٹنگ پارٹنر رہے گی۔
معاہدے کا ایک اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ خابی لامے نے اپنی فیس آئی ڈی، وائس آئی ڈی اور مخصوص اشاروں کے ڈیٹا کو AI ڈیجیٹل ٹوئن بنانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں خابی کا انداز اور اندازِ مزاح مختلف زبانوں میں خودکار طریقے سے تیار کیا جا سکے گا۔
کمپنی کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خابی کے مداحوں کی عالمی بنیاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ 4 ارب ڈالرز سے زائد کی فروخت ممکن ہے۔ جس کی توجہ امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا پر ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خابی لامے نے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔