لاہور، کھلے مین ہول حادثے میں جاں بحق ماں بیٹی کی میتیں آبائی گاؤں پہنچ گئی، نماز جنازہ آج ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
شور کوٹ:
لاہور میں کھلے مین ہول میں گرنے کے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی سعدیہ اور ردا فاطمہ کی میتیں شورکوٹ کے نواحی گاؤں اللہ یار جوتہ میں ان کے آبائی گھر پہنچا دی گئیں، جہاں فضا سوگوار ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق میتوں کی آمد پر اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، جبکہ لواحقین غم سے نڈھال دکھائی دیے۔ حادثے نے نہ صرف خاندان بلکہ پورے علاقے کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیںلاہور: مین ہول میں گرنے سے متعلق مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا
لاہور واقعہ، غفلت برتنے پر برطرف افسران کو دوبارہ ملازمت نہیں ملنی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب
لاہور: سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
اہلِ خانہ کے مطابق جاں بحق ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ جمعہ کے روز دن 11 بجے گاؤں اللہ یار جوتہ میں ادا کی جائے گی، جس میں علاقہ مکینوں، رشتہ داروں اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
یاد رہے کہ سعدیہ اور اس کی کمسن بیٹی ردا فاطمہ لاہور میں داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں، جس کے بعد یہ واقعہ پورے ملک میں شدید غم و غصے اور افسوس کا باعث بنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔