کراچی: ریسکیو 1122 جدید مگر فائر فائٹنگ سہولیات شدید کمی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ایک جانب محکمہ فائر بریگیڈ بدحالی کا شکار ہے تو دوسری جانب سندھ حکومت کے تحت قائم ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر ایک منظم اور جدید ادارہ بنا دیا گیا ہے، تاہم فائر فائٹنگ کے بنیادی وسائل کی کمی نے اس کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گلشنِ اقبال میں قائم ریسکیو 1122 کے ہیڈکوارٹر میں موجود کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے لیس ہے جہاں ایک شفٹ میں 36 آپریٹرز فرائض انجام دیتے ہیں۔ ادارے کے ترجمان حسان الحسیب کے مطابق صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام ایمرجنسی کالز یہاں ریکارڈ کی جاتی ہیں اور فوری طور پر قریبی گاڑی کے عملے کو روانہ کر دیا جاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کراچی میں ریسکیو 1122 کے لیے مجموعی طور پر 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس کراچی فائر بریگیڈ کو 28 فائر اسٹیشنز کے باوجود عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کے پاس افرادی قوت اور ابتدائی وسائل تو موجود ہیں مگر فائر ٹینڈرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے لحاظ سے کم از کم 200 فائر ٹینڈرز درکار ہیں، مگر ریسکیو 1122 کے پاس صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹے فائر ٹینڈرز موجود ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ادارے کے پاس باقاعدہ فائر اسٹیشنز بھی نہیں اور عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں انجام دے رہا ہے۔
ریسکیو 1122 نے عارضی طور پر چار فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں گلشن اقبال میں ہیڈکوارٹر کے علاوہ راشد منہاس روڈ، ڈیفنس اور گلشن معمار شامل ہیں، تاہم ادارے کے پاس اسنار کل جیسی اہم سہولت بھی دستیاب نہیں۔ آتشزدگی اور ایمبولنس دونوں کی کالز اسی کنٹرول روم میں موصول ہوتی ہیں مگر ایمبولنس کسی دوسرے ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی پالیسی ایک تضاد کا شکار نظر آتی ہے، جہاں ایک طرف پرانا نظام ناکارہ ہو چکا ہے اور دوسری طرف نیا نظام وسائل کی کمی کے باعث مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہا، جس کے باعث یہ حکمت عملی شہریوں کے لیے عملی فائدے کے بجائے مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریسکیو 1122 کے کے پاس
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ