لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر ہلاک ہونے کے واقعے کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات کے خلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں پنجاب حکومت، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کھلا چھوڑ کر سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ماں اور بیٹی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نے اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے بجائے صرف نمائشی اقدامات کیے، جبکہ لاہور میں ہر سال ہزاروں مین ہول ڈھکن چوری ہونے کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کرنا ناکافی ہے کیونکہ یہ واقعہ محض حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ علاوہ ازیں، وقوعہ کے بعد متاثرہ فیملی کو پولیس اور حکومتی نمائندوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اصل حقائق سامنے لانے اور لواحقین کو معاوضہ دلانے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، اور غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے کا معاوضہ وصول کر کے جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے لواحقین کو دیا جائے۔ اس کے علاوہ درخواست میں وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مین ہول کے خلاف گیا ہے

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر