ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین کی وفد کے ہمراہ ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون کے ہمراہ برطانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین نے 15 رکنی وفد کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد میں عمران حسین کے والد، سابق رکن برطانوی پارلیمنٹ، اور سماجی تنظیم Orphans in Need کے کنٹری ڈائریکٹر محمد فیصل اسحاق سمیت ہیڈ آف فنڈ ریزنگ بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے مابین پارلیمانی، معاشی اور اقتصادی تعلقات، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے کردار، پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی، اور مسئلہ کشمیر سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

Orphans in Need کے نمائندوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا کہ یہ تنظیم دنیا کے چودہ ممالک میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے۔ تنظیم یتیموں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہاولپور اور مظفرآباد میں تنظیم کے مراکز قائم ہو چکے ہیں، جبکہ 1200 بچوں کو تعلیمی وظائف دیے گئے ہیں۔ سماجی تنظیم کا ایک طالب علم بچہ اب پی ایچ ڈی کر رہا ہے جبکہ ایک طالبہ لیڈی ڈاکٹر بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ بیواؤں کو ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے اور ان کے لیے گھروں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یتیموں اور بیواؤں کے لیے یہ ایک قابلِ تحسین کام ہے، جس کا دائرہ کار ملک کے مزید پسماندہ علاقوں تک بڑھایا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے 24 پسماندہ اضلاع میں سے 17 صوبہ بلوچستان میں واقع ہیں، جہاں دہشت گردی، امن و امان، سیکیورٹی اور تجارتی مسائل درپیش ہیں۔ ایسے علاقوں میں فلاحی منصوبوں سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو ایشیا کا سنٹرل گیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندگی کا شکار ہے، جسے مشترکہ کاوشوں سے دور کیا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ موجودہ حکومت پسماندہ علاقوں، بالخصوص بلوچستان پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ مواصلاتی نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور طویل سفر کا دورانیہ کم ہو کر چند گھنٹوں تک محدود ہو گیا ہے۔ انہوں نے سی پیک اور گوادر منصوبوں کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مقامی آبادی، خطے اور قریبی ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے سیدال خان ناصر نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو برطانیہ کے دورے کی دعوت دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر کشمیری رہنما برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کو ہر اہم فورم پر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھارت کے اصل چہرے سے آگاہ ہو چکی ہے۔

وفد نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی بھابی کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

آخر میں وفد نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ اسلام آباد میں بین الاقوامی معیار کے نئے کنونشن سنٹر کی تعمیر کا فیصلہ تحصیلدار چوہدری شفقت کو سکھ برادری کا خصوصی تحفہ لکی مروت میں پولیس مقابلے میں تین ڈاکو ہلاک سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت ایران پر حملہ ہوا تو پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور کیا جائے گا: رضا امیری مقدم امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے، امریکی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی