data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی جانے والی تازہ تحقیق نے کائنات کے ابتدائی مراحل سے متعلق سائنسی دنیا کو نئی سمت دے دی ہے، جہاں ماہرین فلکیات نے ایک ایسی روشن گلیکسی دریافت کی ہے جو بگ بینگ کے صرف 280 ملین سال بعد موجود تھی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دریافت اس لحاظ سے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کہ کائنات کی مجموعی عمر تقریباً 13.

8 ارب سال ہے اور اس کے مقابلے میں یہ دور کائناتی تاریخ کا انتہائی ابتدائی مرحلہ شمار ہوتا ہے، جس کے بارے میں اب تک بہت کم شواہد دستیاب تھے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق دریافت ہونے والی اس گلیکسی کو ایم او ایم-زیڈ14 کا نام دیا گیا ہے، جو اپنی غیر معمولی روشنی اور کیمیائی ساخت کے باعث سائنس دانوں کے لیے حیرت کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گلیکسی نہ صرف اس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب ستارے اور کہکشائیں بننے کا عمل شروع ہوا بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتدائی کائنات شاید اس سے کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ تھی جتنا پہلے تصور کیا جاتا رہا ہے۔

ماہرین فلکیات نے جیمز ویب کے جدید نیئر انفراریڈ اسپیکٹروگراف آلات کی مدد سے اس گلیکسی کی روشنی کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ اربوں سال کے سفر کے دوران روشنی کی ویو لینتھ میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہی مشاہدات کی بنیاد پر گلیکسی کے وقت اور فاصلے کا تعین ممکن ہوا، جو سائنسی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تحقیق میں ایک اور حیران کن پہلو نائٹروجن کی زیادہ مقدار کا سامنے آنا ہے، جو اس دور کی گلیکسیوں کے بارے میں پہلے سے قائم اندازوں کے خلاف ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ایم او ایم-زیڈ14 سمیت چند دیگر ابتدائی گلیکسیوں میں نائٹروجن کی سطح توقع سے کہیں زیادہ پائی گئی، جس نے ابتدائی ستاروں کی تشکیل اور کیمیائی ارتقا سے متعلق نظریات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اسی تحقیق میں ری آئنائزیشن کے عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جو وہ مرحلہ تھا جب ابتدائی ستاروں اور گلیکسیوں کی توانائی نے کائنات میں پھیلی ہائیڈروجن کی دھند کو ختم کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم او ایم-زیڈ14 جیسی روشن گلیکسیوں نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہوگا، جس کے نتیجے میں کائنات شفاف ہوتی چلی گئی۔

تحقیقی ٹیم سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے وہ مناظر دکھائے ہیں جن کا تصور بھی پہلے ممکن نہیں تھا۔ یہ دریافت نہ صرف چیلنجنگ ہے بلکہ پرجوش بھی کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں ابھی بھی بے شمار راز پوشیدہ ہیں، جنہیں مستقبل میں مزید تحقیق کے ذریعے سامنے لایا جا سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جیمز ویب کے مطابق

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے