مریم نواز بھاٹی گیٹ واقعے کی ہر لمحے کی تفصیل خود لے رہی تھیں: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھاٹی گیٹ کے واقعے کے بعد بہت غمزدہ تھیں اور خود اس کی ہر تفصیل پر نظر رکھ رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی انکوائری کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی اور مریم نواز انتہائی تکلیف میں تھیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بھاٹی گیٹ واقعے کی پہلی اطلاع ریسکیو 1122 نے دی، جس کے بعد بچی کے والد نے پولیس سے رابطہ کیا اور پولیس نے والد کو تھانے لے جایا۔ خاتون کے والد نے پولیس کو بتایا کہ بیٹی کا اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، جس کی وجہ سے پولیس نے والد کو شامل کیا، کیونکہ ممکنہ طور پر پولیس کو لگا کہ شوہر معاملے میں ملوث ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اطلاعات ہیں کہ جس شخص کی بیوی اور بچی سیوریج لائن میں گر گئیں، پولیس نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، اس پر بھی تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
صوبائی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ پنجاب حکومت جلد بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتی ہے، تاہم قانون سازی اور حلقہ بندیوں کے عمل میں وقت لگ رہا ہے، لیکن حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے