بلوچستان: 2 کارروائیوں میں بھارتی پراکسی تنظیموں کے 41 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 29 جنوری کو بلوچستان میں 2 الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی تنظیموں کے 41 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک کارروائی ضلع ہرنائی کے نواحی علاقے میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
ہرنائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم 30 خوارج جہنم واصل ہوئے۔
میانوالی میں چاپڑی ڈیم کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
ہلاک دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے تھا، ہلاک دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا، برآمد شدہ دھماکا خیز مواد کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
دوسری کارروائی ضلع پنجگور میں ایک اور خفیہ اطلاع پر کی گئی جس کے دوران دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کر دیا گیا اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
ہلاک دہشت گرد ماضی میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بینک میں ڈکیتی کے ذریعے لوٹی گئی رقم بھی برآمد کی گئی ہے، برآمد کی گئی رقم 15 دسمبر 2025ء کو پنجگور میں ہونے والی بینک ڈکیتی سے تعلق رکھتی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہلاک دہشت ایس پی کی گئی
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔