پنجاب کی تحصیل سطح پر قائم ہونے والی پہلی سرکاری جامعہ، یونیورسٹی آف کمالیہ نے انڈرگریجویٹ کے پہلے سمسٹر کے طلبہ کے لیے ’انٹرپرینیورشپ انیشی ایٹو‘ متعارف کرا کر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھا لیا ہے۔

اس اقدام کے تحت انڈرگریجویٹ کے پہلے سمسٹر کی 31 طلبہ ٹیموں نے وینچر کیپیٹل فورم کے سامنے اپنے کاروباری آئیڈیاز پیش کیے۔ فورم نے فوری طور پر 8 ٹیموں کے منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے ہر ٹیم کو 10 لاکھ روپے سے زائد کی فنڈنگ فراہم کی۔

ابتدائی طور پر مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ روپے طلبہ ٹیموں کو دیے گئے، جبکہ اس عمل کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ اقدام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر جامعات جرات، وژن اور اختراعی سوچ کے ساتھ روایتی تعلیمی ماڈلز سے آگے بڑھیں تو وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ ماڈل ملک بھر کی جامعات کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

وائس چانسلر کا مؤقف: طلبہ کو محض نوکری کے متلاشی نہیں، مواقع پیدا کرنے والا بنانا مقصد ہے

وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ، پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام ملکی جامعات میں تدریسی اصلاحات اور عملی تعلیم کے فروغ کی ایک نایاب مثال ہے، خصوصاً اس لیے کہ اسے طلبہ کے تعلیمی سفر کے بالکل ابتدائی مرحلے میں متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو مالی خودمختاری، کاروباری سوچ، تنقیدی شعور، تخلیقی صلاحیت، قیادت اور فیصلہ سازی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ یونیورسٹی نے روایتی ملازمت کے حصول پر مبنی سوچ سے ہٹ کر ایک ایسا وژن اپنایا ہے جو طلبہ کو اختراع کار اور قومی معیشت کے فعال کردار کے طور پر تیار کرتا ہے۔

متوسط طبقے کے طلبہ کی غیر معمولی کارکردگی

وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی آف کمالیہ کے طلبہ کی اکثریت سادہ اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے، جنہوں نے سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں سے کئی طلبہ نے یونیورسٹی میں داخلے سے قبل کسی عوامی فورم پر اظہارِ خیال نہیں کیا تھا، تاہم پہلے ہی سمسٹر کے اختتام پر ان طلبہ نے نہایت منظم، پیشہ ورانہ اور پراعتماد انداز میں اپنے منصوبے پیش کر کے اپنی فکری پختگی اور ادارہ جاتی تربیت کا ثبوت دیا۔

یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ اقدام نوجوانوں کو بااختیار بنانے، معاشی خود کفالت کے فروغ اور پائیدار قومی ترقی کی جانب ایک مضبوط اور عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹرپرینیورشپ انیشی ایٹو یونیورسٹی آف کمالیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: یونیورسٹی ا ف کمالیہ یونیورسٹی آف کمالیہ کے لیے

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ