عوامی قرضے کی صورتحال گزشتہ مالی سال میں اہم چیلنج بنی رہی، وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
جون کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 80.5کھرب روپے تک جا پہنچا،انکشاف
ہر پاکستانی شہری پرقرضے کابوجھ گزشتہ مالی سال کے دوران 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بڑھتا ہواعوامی قرضہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہوگیا۔اس طرح ایک سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرضے میں تقریبا 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، یہ حساب ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدِنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کھرب روپے تک عوامی قرضہ کے مطابق مالی سال کے دوران تک پہنچ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔