ایران کے جوہری تنازعے کا واحد حل سفارتکاری ہے، رجب طیب اردگان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
تُرک صدر سے اپنی ایک ملاقات میں سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک، ایران کے داخلی معاملات سے متعلق، مغربی-صیہونی میڈیا کے جانبدارانہ اور یکطرفہ پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" اس وقت اعلیٰ تُرک حکام سے مشاورت کے لئے انقرہ میں موجود ہیں۔ جہاں انہوں نے آج سہ پہر کو تُرک صدر "رجب طیب اردگان" سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مختلف شعبوں میں ایران-ترکیہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اپنے روابط مزید مستحکم و وسیع کرنے کا عزم کیا۔ سید عباس عراقچی نے ترکیہ کے اس موقف کو سراہا جس میں وہ ایران کی خودمختاری کی حمایت اور غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے صیہونی رژیم کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی، جنگ افروزی اور توسیع پسندی کے خلاف، اسلامی ممالک کے اتحاد و یکجہتی کے لئے، تُرک حکومت و عوام کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی ممالک کے معاملات میں تخریب کارانہ مداخلت اور دھمکیوں کو روکنے کے لئے اسلامی و خطے کے ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایران میں حالیہ واقعات کی وضاحت کرتے ہوئے سید عباس عراقچی نے کہا کہ پُرامن عوامی اجتماعات میں پُرتشدد اور دہشت گرد عناصر کی شمولیت کے بعد، اشتعال میں اضافہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں عام شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید ہوئے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ خطے کے تمام ممالک، ایران کے داخلی معاملات سے متعلق، مغربی-صیہونی میڈیا کے جانبدارانہ اور یکطرفہ پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا اصولی موقف ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ اور علاقائی کشیدگی کو بڑھنے سے روکے۔ انہوں نے ایران کے جوہری مسئلے پر ترکیہ کے ذمہ دارانہ رویہ کی تعریف کی۔ سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے کبھی بھی ایسی بات چیت و مذاکرات سے منہ نہیں موڑا جو باہمی احترام کے جذبے سمیت ایرانی عوام کے جائز مفادات اور حقیقی خدشات کو دور کرتے ہوں۔ دوسری جانب اس ملاقات میں، رجب طیب اردگان نے رہبر معظم انقلاب اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو پُرتپاک سلام بھیجا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام، قومی اتحاد و یکجہتی سے موجودہ بحران پر قابو پا لے گی۔ تُرک صدر نے کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کے راستے پر واپس آنے کے لئے اپنے ملک کی کوششوں کا حوالہ دیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ خطے میں مزید عدم تحفظ کی گنجائش نہیں۔ آخر میں رجب طیب اردگان نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا واحد حل سفارت کاری ہی ہے اور اس سلسلے میں ترکیہ مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی رجب طیب اردگان نے کہا کہ ایران کے انہوں نے کہ ایران کے لئے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔