40 سال قبل سوویت یونین کے ایٹمی پاور پلانٹ میں دھماکے کے عینی شاہد نے کیا دیکھا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
1986 میں یوکرین جو اس وقت سوویت یونین میں شامل تھا، میں چرنوبل جوہری حادثہ دنیا کا سب سے سنگین نیوکلیئر حادثہ تھا، جس میں فوراً 31 افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں لوگ متاثر ہوئے، اس حادثے نے یوکرین کی کمیونٹی پر کئی نسلوں تک اثر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: زیلنسکی ٹرمپ ملاقات سے ایک روز قبل یوکرینی دارالحکومت پر میزائل حملے
عینی شاہد 67 سالہ اولیکسی بروس بین الاقوامی خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ وہ حادثے کے وقت ری ایکٹر نمبر 4 کے کنٹرول روم میں آخری شخص تھے۔ اولیکسی 1982 سے اس فیکٹری میں کام کررہے تھے اور حادثے کے دن وہ اپنے فلیٹ میں سوتے ہوئے دھماکے کے وقت کچھ نہیں دیکھ پائے یا سن پائے۔ صبح کام کے لیے بس میں سوار ہو کر فیکٹری پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ بلاک تباہ ہو چکا تھا۔
انہوں نے بتایا ’میرے تمام ساتھی شاید مارے جا چکے ہوں۔ جب میں اسٹیشن کے قریب پہنچا تو بس سے دیکھا کہ بلاک تباہ ہو چکا تھا۔ میرے بال کھڑے ہو گئے، میں نہیں سمجھ سکا کہ ہمیں وہاں کیوں لایا گیا، مگر بعد میں پتا چلا کہ بہت سا کام ابھی باقی ہے۔‘
حادثے کے فوراً بعد اولیکسی نے شفٹ لیڈر اولیکسانڈر اکیموف اور آپریٹر لیونید توپتونوف سے بات کی۔ ان کے مطابق، ’وہ بہت بیمار لگ رہے تھے، ان کا رنگ سفید پڑ چکا تھا، اور چند ہفتوں میں دونوں شدید تابکاری کے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔‘
یہ بھی پڑھیں: جاپان: دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پاور پلانٹ 15 سال بعد بحالی کے قریب پہنچ گیا
اولیکسی نے مزید بتایا کہ ان کے کچھ دیگر ساتھیوں کی جلد روشن سرخ رنگ کی ہوگئی تھی اور بعد میں وہ ماسکو کے اسپتال میں چل بسے۔ انہوں نے کہا ’تابکاری، سرخ جلد، بھاپ کے جلنے کے اثرات سب دیکھے لیکن اس طرح کبھی نہیں دکھایا گیا۔‘
اپنی حالت کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میری جلد دن کے آخر تک براؤن ہو گئی، جیسے پورے جسم پر دھوپ کی رنگت ہو۔ جسم کے وہ حصے جو کپڑوں سے ڈھکے نہیں تھے، جیسے ہاتھ، چہرہ اور گردن، سرخ ہو گئے تھے۔‘
حادثے کے بعد 29 پاور اسٹیشن کے کارکن اور فائر فائٹر شدید تابکاری کے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جبکہ 2 افراد حادثے کے دیگر چوٹوں کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: 2040 تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار 400 سے تجاوز کر سکتے ہیں، ماہر کی پیشگوئی
اولیکسی کے مطابق حادثے کو قابو پانے کی کوششیں ابتدائی مرحلے سے ہی ناکافی لگ رہی تھیں۔ فیکٹری کے ڈائریکٹر وکٹر بروخانوف، چیف انجینئر نیکولائی فومِن اور ڈپٹی چیف انجینئر اناتولی ڈیٹلوف کو اس سانحے میں ملوث ہونے پر 10 سال کی لیبر کیمپ کی سزا دی گئی۔
ابتدائی فائر فائٹر واسیلی اگناتیف بھی موقع پر پہنچے، مگر تابکاری کے خطرے سے بے خبر تھے اور وہ 13 مئی 1986 کو شدید تابکاری کے اثرات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔
حادثے کے دوران 3 کارکنوں کو ایک خراب ڈرینیج والو کو کھولنے کے لیے ٹنل کے نیچے جانا پڑا، تاکہ پانی کے ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکے اور ممکنہ طور پر ایک اور شدید دھماکے سے بچا جاسکے۔ چیف انجنیئر اولیکسی انا نینکو نے کہا،’یہ ہمارا کام تھا۔ اگر میں نہ کرتا تو مجھے نکال دیا جاتا۔ پھر دوسرا کام کہاں سے تلاش کرتا۔‘
یہ بھی پڑھیں: روس ایران میں چھوٹے جوہری توانائی کے پلانٹس بنائے گا؟
بعد میں مائنرز کو بھیجا گیا تاکہ ری ایکٹر کے نیچے جگہ بنائی جا سکے، تاکہ ہیٹ ایکسچینجر لگایا جا سکے اور ری ایکٹر کے کور سے پانی کے ذخائر کو آلودہ ہونے اور ناقابل واپسی نقصانات سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ پریبیت کے رہائشیوں نے آ کر یہ منظر دیکھنے کی کوشش کی اور بیمار ہو گئے۔ ’میں اسپتال میں ایک ایسے شخص کے ساتھ تھا جو 26 اپریل کی صبح سائیکل پر اس پل تک گیا تاکہ دیکھ سکے۔ اسے ہلکی قسم کی شدید تابکاری کے اثرات ہوئے۔‘
اولیکسی کے مطابق چرنوبل نے سوویت حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا اور ان کی خفیہ کاری کی روایت کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا ’مثال کے طور پر، وہ بے فائدہ خفیہ کاری، جو حادثے کی وجہ بنی، جب آپریٹر نے ریڈ بٹن دبایا، ری ایکٹر رکا نہیں بلکہ پھٹ گیا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news چرنوبل جوہری حادثہ روس سوویت یونین عینی شاہد یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چرنوبل جوہری حادثہ سوویت یونین عینی شاہد یوکرین شدید تابکاری کے اثرات یہ بھی پڑھیں کی وجہ سے حادثے کے انہوں نے ری ایکٹر ہلاک ہو نے کہا ہو گئے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔