data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کی کراچی اربن لیب (KUL) اور الخدمت فاؤنڈیشن سندھ نے پاکستان کے ثانوی شہروں، بالخصوص لاڑکانہ اور جیکب آباد میں کمیونٹی سطح پر شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور بین الشعبہ جاتی تحقیق کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔

یہ شراکت داری عالمی تحقیقی منصوبے ‘Reducing Global Catastrophic Risks from Climate Change Extremes’ کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کی قیادت کنگز کالج لندن کر رہا ہے جبکہ کراچی اربن لیب اس میں شراکت دار کے طور پر شامل ہے۔ مفاہمتی یادداشت تین سے چار سالہ تحقیقی اشتراک کو باضابطہ شکل دیتی ہے، جس میں موسمیاتی سائنس اور سماجی علوم کو یکجا کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت کمزور اور حاشیے پر موجود آبادیوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کن حکمتِ عملیوں پر عمل کر رہی ہیں۔

تحقیق کا بنیادی فوکس جنوبی سندھ کے علاقوں، بالخصوص لاڑکانہ اور جیکب آباد پر ہوگا، جہاں درجۂ حرارت باقاعدگی سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہ علاقے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہیں، اس لیے ہیٹ اسٹریس، موافقت اور ریزیلینس کے مطالعے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی اربن لیب کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نوشین انور نے کہا کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویوز اب محض مختصر مدتی واقعات نہیں، بلکہ طویل مدتی اور شدت اختیار کرنے والے مظاہر ہیں، جو روزمرہ زندگی، رہائشی حالات اور معاشی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کمیونٹیز، خصوصاً کمزور طبقات تک رسائی میں کلیدی کردار ادا کرے گی، تاکہ گھروں اور محلوں کی سطح پر گرمی کے تجربات اور موافقتی طریقے بہتر طور پر سمجھے جا سکیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد شاہد نے کہا کہ یہ نوعیت کا اشتراک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے اور شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثرہ کمیونٹیز کی معاونت کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کی جانب سے عبد الواحد اور عمار شہاب، جبکہ کراچی اربن لیب کی جانب سے محمد توحید، سوہا مکتوم اور رمیصہ احمد نے شرکت کی۔

اس شراکت داری کا ایک اہم مقصد علم اور ڈیٹا کا تبادلہ ہے۔ منصوبے کے تحت تیار ہونے والا ڈیٹا الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ادارہ جاتی سیکھنے کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے اور کمیونٹی پر مبنی مداخلتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ تحقیقی نتائج بالآخر اوپن ایکسس کی صورت میں دستیاب ہوں گے، تاکہ پالیسی ساز، محققین، عملی ماہرین اور عام عوام مستفید ہو سکیں۔ اس سے پاکستان میں موسمیاتی دباؤ سے متعلق سائنسی شواہد اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کراچی اربن لیب کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ