رکن اسلام آبار کونسل راجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ کا ایمان مزاری کیس پر انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اپنے خصوصی انٹرویو میں رکن اسلام آباد بار کونسل نے کہا کہ ایمان مزاری کے خلاف چلایا جانے والا ٹرائل شکوک و شبہات چھوڑ گیا ہے، جج نے جلدی میں فیصلہ کر کے عدالتی نظام کو زیرِ سوال کر دیا ہے۔ ہم گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور صدر سپریم کورٹ بار کے بیان سے متفق نہیں ہیں۔ متعلقہ فائیلیںراجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ، اسلام آباد بار کونسل کے معزز ممبر اور قانونی حلقوں کی ایک توانا آواز ہیں۔ آپ کا تعلق اگرچہ حکمران دھڑے سے ہے، لیکن انسانی حقوق کی پامالی اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر آپ نے ہمیشہ اپنی جماعت کے موقف کے برعکس اصولی موقف اختیار کیا۔ حالیہ دنوں میں ایمان مزاری کا مقدمہ لڑ کر اور عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کر کے آپ ایک بار پھر خبروں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے راجہ علیم عباسی سے ایمان مزاری کیس کے محرکات اور موجودہ قانونی صورتحال پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی نذر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایمان مزاری
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔