ہر بات پر پریس کانفرنس ضروری نہیں ہوتی ، طلال چوہدری کا میڈیا پر واضح مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان صحت مند اور بالکل ٹھیک ہیں، ہر چیز کی پریس ریلیز یا پریس کانفرنس ضروری نہیں ہوتی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل کے قریب اسپتال لایا گیا اور دکھایا گیا ، عمران خان کو جیل میں باورچی، خدمت گزار اور ورزش کرنے کے لیے مشین بھی دی گئی ہے ۔طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ تمام قیدیوں کی صحت اور حقوق کا خیال رکھے ، ہر چیز کی پریس ریلیز یا پریس کانفرنس ضروری نہیں ہوتی ، ضرورت ہو تو بات کی تصدیق کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہیں ان کی سکیورٹی کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے ، نہیں چاہتے ہیں کہ اڈیالہ جیل کے باہرکوئی ہنگامہ ہو ۔طلال چوہدر ی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو سیاست کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں،ان کی فیملی اس ملاقات کو اپنے سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی طلال چوہدری نے کہا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔