8 فروری کو احتجاج کا اعلان ؛ بانی کو کوئی نقصان ہوا اس کی ذمہ دار سرکار ہو گی ؛ محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی 42: محمود اچکزئی نے ویڈیو بیان جاری کرتے کہا ہم نے بطور اپوزیشن 8 فروری کو اپنے چھینے گئے ووٹ کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کے خلاف نکلے ۔
ہماری اپنی افواج، پولیس سے کوئی دشمنی نہیں۔ہم چاہتے ہیں تمام ادارے آئینی حدود میں رہیں۔25 کروڑ عوام کی رائے کو زور زبردستی سے چھینا گیا۔ہم نے 8 فروری کو ووٹ چوری کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔اس دوران بانی پی ٹی آئی کی بیماری کارکنوں کے ذہنوں میں ڈال دی گئی ۔ہم اس کو ہمارے مقصد سے ہٹانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ بانی عام آدمی نہیں ہے 25 کروڑ عوام کا لیڈر ہے ۔
بانی کو کوئی نقصان ہوا اس کی ذمہ دار سرکار ہو گی ۔ہمیں بانی کی صحت کا خیال ہے۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ بانی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔اصل میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹایا جا رہا ہے ۔میں پی ٹی آئی کے کارکنان سے کہتا ہوں اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹیں۔بانی کے کارکنان مغرب سے مشرق تک اب بازاروں میں نکلیں۔دکانداروں سے کہیں ایک دن کیلئِے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔8 فروری کو دکانیں کاروبار بند کریں۔ٹرانسپورٹ تنظیمیں بھی ہمارا ساتھ دیں
سہیل آفریدی بہترین اسٹریٹ موومنٹ چلا رہے ہیں ۔تحریک انصاف کے کارکنان کی توجہ اس طرف کم ہے ۔کل یا پرسوں ملک کے طول و عرض میں مشعل بردار جلوس ہوں گے۔ہم نے نہ کسی کو مارنا ہے نہ گالی دینی ہے ۔ہم آزاد الیکشن کمیشن اور عام انتخابات چاہتے ہیں ۔جو پارٹی جیتے اقتدار سنبھالے ۔دوسری پارٹیاں ایک دوسرے کو معاف کریں ۔آئیں پاکستان کی تشکیل نو کریں ۔۸ فروری کے بعد اس ابتداء کو انتہاء تک لے جائیں گے ۔
وزیراعظم شہباز سے دشمنی نہیں ان سے بھی کہتے ہیں کہ آئین کو آپ نے توڑا۔عدالتوں کے پر کاٹے پیکا آرڈینس لا کر اقدامات کئے ۔ آئیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مشعل بردار جلوس نکالیں ۔ ہم ظلم مٹانے نکلیں ہیں ۔ آو ہمارے ساتھ چلو۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فروری کو
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔