تعلیم کے عالمی دن پر شہزاد رائے کا نغمہ؛ عشرت فاطمہ کا دلچسپ تبصرہ وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے گلوکار شہزاد رائے کے نئے گانے پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی کا ایسا پہلو بیان کر دیا جس نے سوشل میڈیا صارفین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔
معروف گلوکار شہزاد رائے تعلیم اور اسکول کی بہتری کے لیے انتھک محنت میں مصروف ہیں اور کئی پراجیکٹس کو سپروائز بھی کر رہے ہیں۔
حال ہی میں تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خصوصی نغمہ بھی جاری کیا جس میں تدریسی نظام میں پائی جانی والی سنگین غلطیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اپنے نغمے میں شہزاد رائے بالخصوص بچوں کی عمروں، ان پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ اور گریڈنگ کے مسئلے کو سامنے لائے ہیں جن پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔
اس نغمے کو کافی پزیرائی ملی ہے اور شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی اس بحث میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
لیجنڈری ٹی وی اینکر پرسن اور نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گانے کا ٹریلر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ گانا اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس نے بچوں سے اُن کا بچپن چھین لیا گیا۔
عشرت فاطمہ نے مزید بتایا کہ جب اُن کے بیٹے کی عمر صرف ڈھائی سال تھی تو اسکول میں داخل کروانا پڑا تھا۔ میں اُسے ڈائیپر پہنا کر اسکول بھیجا کرتی تھیں۔
اُنھوں نے شکوہ کیا کہ اس عمر میں کھیلنے کودنے کے بجائے بچے کو رنگوں، الفاظ، جسم کے اعضا اور نمبروں کی پہچان سکھانا داخلے کی شرط بن چکا ہے۔
عشرت فاطمہ نے موجودہ تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھاری بستے، دیر رات تک ہوم ورک، اور والدین کی مسلسل مشقت نے بچوں کی معصوم زندگی کو بوجھ بنا دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اب نہ تو اسکولوں میں کھیل کے میدان رہے ہیں اور نہ گلیوں میں وہ رونق ہوا کرتی ہے۔ بس کتابیں، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز ہی رہ گئے ہیں۔
عشرت فاطمہ نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو مقابلے کی دوڑ میں نہ دھکیل لیں بلکہ انہیں سمجھ کے ساتھ سیکھنے کا موقع دیں۔
انھوں نے ممتاز گلوکار شہزاد رائے کو اس سنگین مسئلے پر آگاہی کے لیے نغمہ بنانے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
View this post on Instagram.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عشرت فاطمہ نے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔