کراچی؛ موٹرسائیکل سوار ڈاکو الیکٹرونکس شاپ کے ملازمین سے 80 لاکھ روپے چھین کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
پریڈی کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار ڈاکو الیکٹرونکس کی دکان کے ملازمین سے 80 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق الیکٹرونکس شاپ کے 2 ملازمین صدر میں قائم نجی بینک سے نقدی نکلوا کر جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی دوران تعاقب میں آنے والے موٹر سائیکل سوار دو ڈاکو صدر زیب النسا اسٹریٹ جیولرز کی دکان کے قریب اسلحے کے زور پر ان سے 80 لاکھ روپے نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔
قائم قام ایس ایچ او پریڈی شاہ فیصل نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ دکان کے ملازم کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا جس کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔
آئی جی سندھ نے رپورٹ طلب کرلی
آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے صدر زیب النسا اسٹریٹ میں تاجر سے 80 لاکھ کی ڈکیتی کے واقعے پر کراچی پولیس چیف آزاد خان سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تمام تر وسائل بروئے کار لانے اور متاثرہ تاجر کے بیان کی روشنی میں واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے 80 لاکھ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔