بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کے معائنے اور ٹیسٹ کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پمز اسپتال اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کی تفصیلات بتادیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ کی وجہ سے بینائی پر اثر ہوا ہے، سینئر ڈاکٹرز کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ڈسچارج کر دیا۔
ڈاکٹر عمران سکندر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کچھ روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کی تھی جس پر سینئر ڈاکٹر نے اڈیالہ جیل میں ان کا معائنہ کیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانیٗ پی ٹی آئی کی آنکھ کی سرجری ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی کو ہفتے کی شام اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لانے کو خفیہ رکھا گیا۔
ڈاکٹر عمران سکندر کے مطابق سینئر ڈاکٹر نے بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کے ضروری ٹیسٹ کیے، بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی فنڈو اسکوپی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آنکھ کے اندر دباؤ کی پیمائش، ریٹینا کی او سی ٹی کی گئی، بانی پی آئی کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص کی گئی۔
ڈاکٹر عمران سکندر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے مزید علاج کے لیے سینئر ڈاکٹر نے انہیں اسپتال بھیجنے کی سفارش کی جس پر انہیں علاج کے لیے پمز لایا گیا۔
ڈاکٹر عمران سکندر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مرض اور علاج کے بارے میں تفصیل سے سمجھایا گیا، علاج سے پہلے باقاعدہ تحریری رضامندی بھی حاصل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج آپریشن تھیٹر میں جراثیم سے پاک ماحول اور نگرانی میں کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کا علاج تقریباً 20 منٹ میں بخیر و خوبی مکمل ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ڈاکٹر عمران سکندر سینئر ڈاکٹر آنکھ کی کی گئی
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔