سرسید یونیورسٹی کا 29واں کانووکیشن‘1095طلبہ کو ڈگریاں تفویض
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا 29واں کانووکیشن روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی شخصیات کے علاوہ معززین، فیکلٹی و طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری تھے۔اس موقع پر 1095 سے زائدطلباء و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں ذاکر علی خان فائونڈیشن کی طرف سے فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو یا تو لیپ ٹاپ یا پچاس ہزار کیشن پرائز دیا گیا۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو حق اور سچ کے راستے پر چلانا ہے، نہ کہ کرپٹ نظام کا حصہ بننا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان ایک عظیم دانشور تھے جنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تعلیم اور ہنر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ سرسید یونیورسٹی کے چانسلر، محمد اکبر علی خان کہاکہ ادارے کو درپیش مالی اور تعلیمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر حکومتی فنڈنگ کی عدم موجودگی میں، سرسید یونیورسٹی کی ترقی اور اس کے بانیوں کی بصیرت انگیز قیادت پر فخر کا اظہار کیا۔ چانسلراکبر علی خان نے بتایا کہ طلباء کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا یہ ادارہ اس پختہ عزم کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ سرسید یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم مالی بحران یا فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ وزیر برائے بورڈز و جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نوجوانوں کا تعلیم سے آراستہ کرنے کا فرض بخوبی نبھا رہی ہے۔۔ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے اسکالر شپ میں اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرسید یونیورسٹی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔