نائیجیریا : عسکریت پسندوں کا فوجی اڈے پر حملہ ‘ کئی افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا کی ریاست بورنو میں عسکریت پسندوں نے فوجی اڈے پرحملہ کر دیا،جس میں فوجیوں سمیت درجنوں افراد ہلاک جبکہ کئی لاپتا ہوگئے۔ حملہ رات کے وقت کیا گیا،جس کے بعد شمال مشرقی نائیجیریا میں سیکورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔شدت پسندوں کے حملوں کے باعث ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئیجب کہ حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن بھی شروع کر دیاگیا ہے۔ دوسری جانب نائیجر کی فوجی حکومت نے فرانس، بینن اور آئیوری کوسٹ پر اپنے دارالحکومت نیامے کے فوجی ہوائی اڈے پر حملے میں معاونت کا الزام عائد کیا ہے اور اس حملے کو پسپا کرنے میں مدد پر روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جنرل عبدالرحمان تیانی نے سرکاری ٹیلی وژن پر خطاب میں فرانس کے صدر ماکروں، بینن کے پیٹرس ٹیلون اور آئیوری کوسٹ کے صدر الاسانے اواتارا پر نیامے کو فوجی ایئر پورٹ پر حملے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔دوسری طرف فرانس، بینن اور آئیوری کوسٹ نے ابھی تک ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔جنرل عبدالرحمان تیانی نے یہ دعویٰ دیوری ہمانی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایئر بیس کا دورہ کرنے کے بعد کیا، جو صدارتی محل سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں 2روز قبل دھماکے اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ نائیجر کے وزیر دفاع سلیفو مودی نے کہا کہ حملہ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا جس پر جوابی کارروائی بھی کی گئی۔ وزارت دفاع نے کہا کہ حملے میں 4 فوجی اہلکار زخمی اور 20 حملہ آور مارے گئے جن میں ایک فرانسیسی شہری بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 11افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جنرل عبدالرحمان تیانی نے روس کے ساتھ اپنے ملک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی تصدیق کرتے ہوئے مذکورہ فوجی اڈے پر تعینات روسی فوجیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حملے کا الزام القاعدہ اور داعش پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس بغاوت پر روس نے نائیجر کی حکومت کی مدد کی۔ ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اڈے پر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔