جینے دو کراچی مارچ میں لاکھوں خواتین شریک ہونگی‘جاوداں فہیم
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-01-9
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی جو کہ ایک میٹروپولیٹن شہر کہلاتا ہے، آج بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، کھلے گٹر، ناقص انفرااسٹرکچر اور حکومتی غفلت نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اگر حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے، سڑکیں بنانے ،گٹر کے ڈھکن لگانے اور نکاسی آب کا مؤثر نظام قائم کرنے میں ناکام ہے تو پھر عوام اس سے کیا امید رکھیں؟کل یکم فروری کو منعقد ہونے والا ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ عوام کے دکھوں اور امیدوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کے تحت کارکنان گھر گھر جا کر ملاقاتیں کر رہی ہیں اور عوام میں شعور و آگاہی بیدار کر رہی ہیں۔ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا کہ کراچی کے مسائل کم ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بدانتظامی اور لاپروائی کے باعث شہری اپنی جانوں کی بازی ہار رہے ہیں، قیمتی املاک سے محروم ہو رہے ہیں اور شہر کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ نوجوان نسل اس سنگین صورتحال کو بخوبی سمجھتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کر رہی ہے۔ نوجوان نسل اس وقت قوم کے لیے امید کی کرن ہے۔3 کروڑ عوام کے میگا سٹی کو کرپٹ حکمرانوں کے چنگل سے نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے دلخراش مناظر نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، مگر افسوس کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایسے حالات میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے خواتین، طالبات اور زندگی کے ہر طبقہ فکراساتذہ، وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر پروفیشنل خواتین، طالبات اور بچوں سے اپیل کی کہ وہ کل یکم فروری کو ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں بھرپور شرکت کریں اور اپنی موجودگی سے شہر پر ڈھائے جانے والے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ تاحال وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نہ تو استعفا دیا ہے اور نہ ہی عوام کے زخموں کا مداوا کیا ہے، لیکن عوام کا بڑھتا ہوا غم و غصہ انہیں استعفا دینے پر مجبور کر دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوام کے
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں