data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260131-01-13
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے جمعہ کے روز ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد شہر کی فضا سوگوار ہے، لیکن حکمران طبقہ عوامی دکھوں سے بے نیاز نمائشوں میں مصروف ہے۔ پے در پے سانحات کے بعد کراچی والے یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر قابض میئر نے استعفا نہ دیا تو اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے گی۔جب شہر میں جنازے اٹھ رہے تھے، میئر صاحب اسلام آباد میں کافی پی رہے تھے اور پھولوں کی نمائش کا افتتاح کر رہے تھے۔بچہ گٹر میں گر جائے تو میئر صاحب سوئمنگ پول کا افتتاح کرتے ہیں،اپوزیشن لیڈر نے کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد اور سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو خود غفلت کا مرتکب ہو، وہ انکوائری کیسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے کمشنر کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ یا عدلیہ کا کوئی سینئر جج اس واقعے کی شفاف انکوائری کرے۔ رپورٹ میں حقائق چھپانے اور ذمے داروں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔گل پلازہ سانحے کی مکمل ذمے داری میئر کراچی اور سندھ حکومت کی ہے۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ کراچی میں لوگ ٹینکرز تلے کچل کر، کتے کے کاٹنے سے اور ڈکیتی مزاحمت پر مارے جا رہے ہیں۔ شہر جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف ”اجلاس در اجلاس” کا نام نہیں، اگر ادارے وقت پر کام کریں تو حکومت کا وجود نظر آتا ہے۔ آگ لگنے پر فائر بریگیڈ غائب ہو تو اسے حکومت کیسے مانا جائے،مالی بدعنوانی اور اداروں کی تباہی کہ حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 17 سال میں 22 ہزار ارب روپے کا حساب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے ایکٹ کے ذریعے کے ایم سی کے تمام ادارے چھین کر ان پر قبضہ کرلیا گیا۔ ریسکیو 1122 کو کے ایم سی کے ماتحت ہونا چاہیے تھا، اسے الگ ادارہ بنا کر فائر بریگیڈ کو اس میں ضم کرنا سراسر غلط ہے۔آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس بدانتظامی اور ظلم کے خلاف کل یکم فروری کو شہر بھر میں بڑا مارچ کرے گی، اب اس حکومت کو گھر بھیجنے کی تحریک چلانے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے وفاق اور ایم کیو ایم سے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل صرف باختیار اور خودمختار کراچی سٹی گورنمنٹ میں ہے۔

اپوزیشن لیڈڑ کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیف الدین ایڈووکیٹ کرتے ہوئے کے ایم سی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی