ہم ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، مصر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ملٹری اکیڈمی کا دورہ کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات علاقائی ممالک تک آئیں گے۔ جس سے خطے کے استحکام کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مصر کے صدر "عبدالفتاح السیسی" نے کہا کہ اس وقت ایک اور مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے جو براہ راست خطے کو متاثر کر سکتا ہے، وہ ایران سے متعلق بحران ہے۔ انہوں نے اس بحران کے بھیانک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ اس معاملے کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات علاقائی ممالک تک آئیں گے۔ جس سے خطے کے استحکام کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج مصر کی ملٹری اکیڈمی کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم پُرسکون طریقوں اور وسیع کوششوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کے لئے مشاورت کر رہے ہیں۔ مصری صدر نے فوجی تصادم کے منظر نامے سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ قتل و غارت گری کی صورت میں سلامتی اور معیشت کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید تفصیلات بیان کئے بغیر، مذکورہ بحران کی شدت کو روکنے اور سیاسی حل کی جانب بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔
عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔
معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی