data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب /غزہ /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے پہلی بار غزہ جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار تسلیم کرلی ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز نے مانا ہے کہ اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ کے دوران یہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتا رہا تھا، تاہم اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ تعداد صرف ان افراد پر مشتمل ہے جو براہِ راست فوجی کارروائی میں مارے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے لاپتہ افراد، بھوک یا بیماری سے ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 71,667 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 90 فیصد سے زاید کی شناخت نام اور شناختی نمبرز کے ذریعے ہو چکی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول اوروں کے برعکس میرا یقین ہے کہ حماس جلد ہی اسلحہ ڈالنے جا رہی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران دیا لیکن اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا یہاں تک کہ وہ اپنی اے کے 47 رائفلیں بھی حوالے کریں گے۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے بھی وقت نہیں بتایا۔ادھر اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے انکشاف کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی پروگرام متعارف کرایا جائے گا جس میں ہتھیار پھینکنے والوں کو رقم، روزگار اور عام معافی دی جائے گی۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جنگجوؤں کے لیے اسلحہ پھینک کر مالی فوائد لینے اور عام شہری جیسی زندگی گزارنے کا موقع دینے والا یہ منصوبہ کئی ماہ سے زیرِ غور ہے۔ عرب سفارتکاروں نے بھی بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ثالث ایک مرحلہ وار منصوبہ چاہتے ہیں جس میں حماس پہلے بھاری ہتھیار اور پھر ہلکے ہتھیار بھی حوالے کرکے غیر مسلح ہوجائے گا۔تاہم اسرائیل اس طریقہ کار سے متفق نہیں کیونکہ ہلکے ہتھیاروں کے ذریعے بھی حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل نے تقریباً سوا 2 سال سے غزہ پر مسلسل بمباری کے بعد بالآخر فلسطینیوں کا ایک دیرینہ مطالبہ مان لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان واحد زمینی راستہ رفح گزرگاہ کو یکم فروری سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا جو 2 برس سے بند تھی۔ تاہم رفح راہداری دوطرفہ کھول دینے کے باوجود یہاں سے امدادی سامان یا تجارت کی آمدو رفت کی اجازت نہیں ہوگی کیوں کہ اسرائیل سمجھتا ہے اس طرح اسلحہ کی ترسیل ہوسکتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 110ویں روز بھی جاری رکھا، جہاں شدید فائرنگ، توپ خانے کی گولہ باری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں مختلف محاذوں پر کی گئیں اس دوران 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم