تیراہ میں فوجی آپریشن نہیں ہورہا، فتنوں کا صفایا کررہے ہیں، سیکورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-08-17
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سیکورٹی حکام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخو کے علاقے تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا حالانکہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے تاہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں فتنوں کا صفایا کیا جارہا ہے۔سیکورٹی حکام نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ کے دوران سوالات کے جواب دیے اور بتایا گیا کہ تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے، صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) ہو رہے ہیں۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ تین سال سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف صرف آئی بی او کیے جا رہے ہیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر طریقہ ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں ،فتنوں کا صفایا کررہے ہیںاور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے بتایا کہ تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، تیراہ میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی داخلی یا بیرونی راستوں پر چیک پوسٹ لگائی گئی ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ موجودہ موسم بھی بڑے آپریشن کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے، فوج اور عوام کے رشتے میں کوئی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں جو ان کے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مشاورت میں ہمیشہ مقامی حالات و روایات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں خودانحصاری حاصل کرچکے ہیں، جاری جنگوں کے تناظرمیں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی کام کررہے ہیں۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دشمن ہیں، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام پہچان چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیراہ میں
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔