تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، سیکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخو کے علاقے تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا حالانکہ کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے تاہم انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ کے دوران سوالات کے جواب دیے اور بتایا گیا کہ تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے، صرف انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) ہو رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ تین سال سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف صرف آئی بی او کیے جا رہے ہیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، تیراہ میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئ داخلی یا بیرونی راستوں پر چیک پوسٹ لگائی گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ موجودہ موسم بھی بڑے آپریشن کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے، فوج اور عوام کے رشتے میں کوئی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں جو ان کے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مشاورت میں ہمیشہ مقامی حالات و روایات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دشمن ہیں، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام پہچان چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔