پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-08-21
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بات اڈیالہ سے پمز تک پہنچ گئی لیکن اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں۔عدالت عظمیٰکے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا آپریشن ہوا اور ہم سے چھپایا گیا، ان کو اسپتال لے جایا گیا اور وقت بھی صحیح نہیں بتایا گیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جب بیماری لاحق ہوئی تو جیل میں اس کا معائنہ ہوا ہوگا، اس معائنے کا فیملی اور وکلا کو نہیں بتایا گیا‘ 5 دن حکومت اس کی نفی کرتی رہی۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، ہمارے پاس اور آپشنز بھی موجود ہیں۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو پمز اسپتال لایا گیا اور ان کی اسپتال میں سرجری کی گئی، 5 دن حکومت اس کو جھٹلاتی رہی۔ قانون یہ کہتا ہے اگر کسی قیدی کو اسپتال لے کر جایا جائے تو اس کے اہل خانہ کو مطلع کیا جائے‘جمعرات کو سہیل آفریدی سمیت دیگر رفقا جیل کے باہر گئے، سہیل آفریدی کا نام ملاقاتیوں کی لسٹ میں تھا لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے درخواست کرتے ہیں، آپ انصاف کے سسٹم کے والد ہیں، ریٹینا رپچر کا پمز میں کوئی ماہر ہے ہی نہیں اور اس کا پروسیجر ڈھائی گھنٹے کا ہوتا ہے، بانی پی ٹی آئی ہماری ریڈ لائن ہے لیکن فیملی اور دوستوں کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی کا کہنا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔