پنجاب پبلک سروس کمیشن نے تحریری امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سٹی 42: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے پانچ محکموں کی آ سامیوں کے تحریری نتائج کا اعلان کر دیا۔
ترجمان پنجاب پبلک سروس کمیشن کے مطابق رنگ روڈ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی 2 آسامیوں کے لیے 8 امیدوار کامیاب قرار پائے، محکمہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس میں ٹیکنیکل انسپکٹر کی 1 آسامی پر 7 امیدوار کامیاب ر ہے۔
محکمہ سپیشلائز ہیلتھ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آرتھوپیڈک کی آسامیوں پر 2 امیدوار وں نے امتحان پاس کیا،اسسٹنٹ پروفیسر نیوناٹالوجی کی آسامیوں پر 6 امیدوار کامیاب قرار پائے جبکہ محکمہ بورڈ آف ریونیو میں جونیئر کلرک کی آسامیوں پر 4 امیدوار پاس ہوئے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی میں سب انجینئر فیصل آباد کےلئے 9 امیدوار کامیاب رہے.
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
سیکرٹری افضال احمد نے چیئرمین کی منظوری سے نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے، کامیاب امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: امیدوار کامیاب ا سامیوں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔