سفاری ٹرین کے اخراجات کم کرانے کی کوشش کروں گا: وزیرِ سیاحت سندھ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیرِ ثقافت و سیاحت سندھ ذوالفقار علی شاہ—فائل فوٹو
وزیرِ ثقافت و سیاحت سندھ ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وزیرِ اعظم سے بات کر کے سکھر سفاری ٹرین کے اخراجات کم کرانے کی کوشش کریں گے۔
وزیرِثقافت و سیاحت سندھ ذوالفقار شاہ نے کراچی کینٹ اسٹیشن پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سندھ کےکلچر ٹورازم کے فروغ کے لیے یہ سب سے بہترین اقدام کیا گیا ہے یہ سفاری ٹرین کراچی سے سکھر جائے گی۔
سفاری ٹرین کے حوالے سے انہوں بتایا ہے کہ موسمِ گرما کی تعطیلات میں سیاحوں کو اس ٹرین کے ذریعے گورکھ ہل اسٹیشن لے جائیں گے۔
صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
سکھر سفاری ٹرین کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اس ٹرین کے ذریعے سادھو بیلہ لینس ڈاؤن برج اور کوٹ ڈیجی کی سیر بھی کرائی جائے گی۔
اس موقع پر محکمۂ سیاحت کی جانب سے خصوصی ٹرین کینٹ اسٹیشن سے موہن جو دڑو روانہ ہوئی جس کے مسافروں میں وزیرِ ثقافت و سیاحت ذوالفقار علی شاہ بھی شامل تھے۔
ترجمان محکمۂ سیاحت کے مطابق پہلے روز ٹرین کے شرکاء کو درگاہ لعل شہباز قلندرؒ کی زیارت کرائی جائے گی، اس کے بعد ٹرین سیہون سے لاڑکانہ روانہ ہو گی جہاں قیام سمیت شرکاء کے لیے میوزیکل ایونٹ ہو گا جبکہ دوسرے روز شرکاء موہن جو دڑو کا دورہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذوالفقار علی شاہ ثقافت و سیاحت سفاری ٹرین کے سیاحت سندھ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔