بلوچستان میں اب تک 37 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں میں اب تک 37 مزید دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ کارروائیاں جاری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملہ کرنے والے 37 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ صرف گزشتہ دو روز میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 70 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی۔ بلوچستان پولیس اور ایف سی کے جانباز جوانوں نے مل کر دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیئے۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں میں اب تک 37 مزید دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ یہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ریاست آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز