Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:14:32 GMT

گزشتہ دو سال میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی وجوہات

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

گزشتہ دو سال میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی وجوہات

گزشتہ دو سال کے دوران سونے کی قیمتیں دُگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں مارچ 2024 سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا، جب سرمایہ کاروں کو یقین ہوا کہ امریکہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔ یہ رجحان سال 2025 میں بھی جاری رہا۔
قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات:
امریکہ میں داخلی سیاسی تنازعات اور فیڈرل ریزرو کے فیصلوں میں اختلافات۔
وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے اور ایران، گرین لینڈ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی۔
دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے تقریباً 1700 ٹن سونے کی خریداری۔
چین کی جانب سے ڈالر بانڈز اور ٹریژری بلز کی فروخت کے بعد سونے کے ذخائر میں اضافہ۔
ان عوامل کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں تقریباً 3,500 ڈالر اضافہ ہوا۔ پاکستان میں مارچ 2024 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2,27,800 روپے تھی، جو 28 جنوری 2025 کو بڑھ کر 5,72,862 روپے تک پہنچ گئی۔
حالیہ کمی:
حال ہی میں منافع کے حصول کے رجحان کے باعث سونے کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں کم ہو رہی ہیں۔
فی اونس سونا: 4,895 ڈالر (255 ڈالر کی کمی)
فی تولہ سونا پاکستان میں: 5,11,862 روپے (25,500 روپے کی کمی)
فی 10 گرام سونا: 4,38,839 روپے (21,862 روپے کی کمی)
فی اونس چاندی: 85.

31 ڈالر (20.63 ڈالر کی کمی)
فی تولہ چاندی: 9,006 روپے (2,063 روپے کی کمی)
فی 10 گرام چاندی: 7,721 روپے (1,768 روپے کی کمی)
نتیجہ:
سونے کی قیمتوں میں دو سالہ زبردست اضافہ عالمی سیاسی کشیدگی، امریکی اقتصادی فیصلوں، مرکزی بینکوں کی خریداری اور سرمایہ کاری کے رجحانات کی وجہ سے ہوا، جبکہ حالیہ دنوں میں منافع کے حصول کے سبب قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: روپے کی کمی قیمتوں میں میں اضافہ سونے کی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟