کراچی:

بوٹ بیسن پولیس نے کلفٹن بلاک 2 میں مبینہ فائرنگ تبادلے میں ایک ملزم کو ہلاک اور دوسرے  کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ملزم کی ہلاکت کے بعد اس کے ورثا نے درجنوں افراد کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں احتجاج کیا۔

بوٹ بیسن پولیس نے کلفٹن بلاک 2 میں مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم کو ہلاک اور دوسرے ملزم کو گرفتار کر لیا ، مارے جانے والے ملزم کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

ترجمان ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ مہزور علی کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ ملزم کی شناخت حیدر علی کے نام سے ہوئی ہے اور ہلاک و گرفتار ملزمان اسٹریٹ کرائم کی واردتوں میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک و گرفتار ملزمان شہریوں سے موبائل فون چھین کر فرار ہو رہے تھے کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی جس پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی اور پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ملزم موقع پر ہلاک جبکہ اس کا ساتھی بلا ضرب گرفتار ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ ہلاک اور گرفتار ملزمان سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کی گئی ہیں، گرفتار و ہلاک ملزمان کا تعلق بدنام زمانہ رکشا گینگ سے بتایا جا رہا ہے جو شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

لواحقین کا احتجاج

دوسری جانب مبینہ ملزم علی حیدر کی ہلاکت کی اطلاع پر اس کے گھر والے درجنوں مرد و خواتین کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچ گئے اور احتجاج شروع کیا۔

مظاہرین نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ گلشن معمار کا رہائشی 20 سالہ علی حیدر تفریح کے لیے سی ویو گیا تھا لیکن پولیس نے رکشا نہ روکنے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارے جانے والی علی حیدر کی لاش پولیس کے پاس ہے اور ان کے ساتھی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہرین کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتلوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ۔

پولیس کا ملزمان کا کرمنل ریکارڈ حاصل کرنے کا دعویٰ

ترجمان ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق ہلاک ملزم کی شناخت علی حیدر جبکہ بلا ضرب گرفتار ملزم کی شناخت شاہنواز کے نام سے کی گئی ہے، ہلاک ملزم کلفٹن اور ڈیفینس کے علاقوں میں سرگرم تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکشے میں سوار ہو کر شہریوں کو لوٹ مار کا نشانہ بناتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک اور گرفتار دونوں ملزمان اسٹریٹ کرائم کے متعدد مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ملزمان سے اسلحہ راؤنڈز ، دو موبائل فونز ، تین پرس اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار اور ہلاک ملزمان کا تعلق بدنام زمانہ رکشا گینگ سے ہے جو شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم علی حیدر ولد خادم حسین 2019 سے وارداتوں میں ملوث رہا ہے، ملزم کے خلاف آرٹلری میدان ، گزری اور تیموریہ تھانے میں مجموعی طور پر 4 مقدمات درج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزم حیدر علی تیموریہ تھانے کی ایف آئی آر میں سزا یافتہ ہے جبکہ دوسرے گرفتار ملزم شاہنواز کے خلاف سپرہائی وے اور گزری تھانوں میں مجموعی طور پر تین مقدمات درج ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وارداتوں میں اسٹریٹ کرائم گرفتار ملزم ہلاک ملزم میں ملوث انہوں نے علی حیدر ہلاک اور کے مطابق ملزم کی کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار