تم قائد اعظم کےنافرمان ہو،آئین کو نہیں مانتے،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
صوابی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور عوام کو دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کرو، جس دن عوام نے انصاف اپنے ہاتھ میں لیا تو کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
صوابی میں ا سٹریٹ موومنٹ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم کے جذبات اور غصہ ہے، میرا غصہ اور جذبات قوم سے زیادہ ہیں لیکن ہمارے کچھ بڑے ہیں، ان بڑوں نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔
میں آپ کو اور ان کو بتانا چاہتا ہوں یہ ہاتھ کچے دھاگے سے بندھے ہوئے ہیں اس دھاگے کو توڑنے میں دیر نہیں لگے گی کیوں کہ نوجوانوں کا جذبہ عروج پر ہے۔
ان نوجوانوں اور عمران خان کے درمیان کچھ لمحے ہیں، تھوڑا انتظار کریں کچے دھاگے توڑ کر عمران خان کو رہا کروائیں گے۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے تہذیب سکھائی ہے ہمیں عمران خان نے تربیت دی ہے ہم بڑوں کا احترام کرتے ہیں تمہاری طرح نہیں جس نے پاکستان بنایا اسی قائد اعظم کی تم نے نافرمانی کی ہے۔
ایک بات تم نے نہیں مانی ،تم آئین کو قانون کو نہیں مانتے ،اس فیڈریشن کے ساتھ اور ادارے کے ساتھ قانون اور آئین نے ہی لوگوں کو جوڑ رکھا ہے جسے تم نہیں مانتے۔
ان کا کہنا ہے کہ میرے لیڈر عمران خان کی آنکھ کا آپریشن ہوا ہے، میرے لیڈر کی بیماری کو پوری قوم سے، فیملی سے اور ذاتی معالجین سے چھپا کر رکھا گیا۔
پھر جب اعتراف کیا گیا تو ہم نے فیملی اور ذاتی معالجین کی ملاقات کا مطالبہ کیا جسے پورا نہیں کیا گیا، ایک دن اور ایک رات ہم نے اڈیالہ کے باہر گزارا، دوسرا دن ہم نے سپریم کورٹ کے باہر گزارا لیکن ہمیں نہیں سنا گیا۔
ہمیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، پاکستانیو! عمران خان آپ کا لیڈر ہے، آپ نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے، میں ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوں ہم غیرت مند لوگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔