بھاری امریکی ٹیرف اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بھاری امریکی ٹیرف اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، برطانوی اخبار WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز
ممبئی(آئی پی ایس )برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارتی حکومت کی ناکام سفارت کاری اور کمزور معاشی پالیسیاں مودی کے ترقی اور علاقائی تسلط کے دعوں کو زمینی حقائق کے سامنے بے نقاب کر رہی ہیں۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق مودی کے بدترین دور اقتدار میں بھارت کو شدید سفارتی اور معاشی دھچکوں کا سامنا ہے۔ بھارتی ادارہ جاتی حصص کی فروخت اور امریکی پابندیوں نے مودی حکومت کو امریکا کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دی ٹیلی گراف کا کہنا ہیکہ بھارت پر بھاری ٹیرف، امریکی امیگریشن قوانین میں سختی اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ دی ٹیلی گراف نے روس یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی شہریوں کی مدد میں مودی کی بے بسی، ایران کی جانب سے بھارتی بحری عملے تک رسائی سے انکار اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے کے 116.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمہنگائی کے ستائے عوام کیلیے بری خبر، ایل پی جی گیس مہنگی کر دی گئی مہنگائی کے ستائے عوام کیلیے بری خبر، ایل پی جی گیس مہنگی کر دی گئی ایرانی آرمی چیف نے امریکا اور اسرائیل کو حملے سے خبردار کر دیا طالبان کی پالیسیوں نے تقریبا ڈیڑھ کروڑ افغان شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کردیا بحریہ ٹا ئون کے ملک ریاض پاکستان میں مقدمات سے پریشان ، صحت بگڑنے لگی پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا انوکھا کارنامہ، پہلی بار تمام 10 وکٹیں اسپنرز کے نام آج باڑہ سیاسی اتحاد کا جرگہ تھا، جرگے نے صوبائی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگائے: عطا تارڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔