فلاڈیلفیا: گمشدہ کتا 4 سال بعد مل گیا، مالک برفانی طوفان میں 16 گھنٹے کا سفر کر کے لینے پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امریکی ریاست پنسلونیا کے شہر فلاڈیلفیا میں 4 سال قبل گم ہونے والا کتا بالآخر مالک کو مل گیا، مالک وسکونسن سے برفانی طوفان کے دوران طویل سفر کر کے اپنے پالتو جانور کو لینے پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس نے ایک سال سے گمشدہ شخص کا معمہ حل کردیا
فلاڈیلفیا اینیمل کیئر اینڈ کنٹرول ٹیم کے مطابق رواں ماہ ایک آوارہ کتے کو تحویل میں لیا گیا، جسے معمول کے مطابق مائیکروچِپ اسکین کیا گیا۔ مائیکروچپ کے ذریعے اس کی شناخت سیپی کے نام سے ہوئی، جو اسی علاقے میں 4 سال قبل لاپتا ہونے کی رپورٹ میں درج تھا۔
سیپی کے مالک لیووِگِلڈو رامیرز نے بتایا کہ کتا 2022 میں اس وقت بھاگ گیا تھا جب خاندان گھر میں سامان رکھ رہا تھا۔ بعد ازاں وہ وسکونسن منتقل ہو گئے تھے تاہم انہوں نے امید کے ساتھ سیپی کا مائیکروچپ ریکارڈ مسلسل اپڈیٹ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتا ’ایتھینا‘ کرسمس پر گھر لوٹ آیا
کتے کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی رامیرز شدید برفباری کے باوجود 16 گھنٹے کا سفر طے کر کے فلاڈیلفیا پہنچے اور اپنے پالتو جانور سے دوبارہ ملے۔
مالک کا کہنا تھا کہ سیپی ان کا بہترین دوست ہے اور 4 سال بعد اس سے ملاقات ناقابلِ یقین اور جذباتی لمحہ تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا برف پنسلونیا ڈیلفیا کتا لاپتا کتا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پنسلونیا کتا لاپتا کتا
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان