بلوچستان میں دہشتگردی حقوق کی جدوجہد نہیں، دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر پوری قوم کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ کسی حقوق کی جدوجہد کا نام نہیں، یہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشتگردی ہے جس کا ہدف بلوچستان کے اپنے لوگ اور پاکستان ہے۔ لیکن ہم دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ عناصر نہ ترقی برداشت کرتے ہیں نہ امن، اسی لیے وہ مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایسے عناصر ترقی کے منصوبوں اور روزگار کے مواقع تباہ کرنا چاہتے ہیں، اور سی پیک جیسے منصوبوں کے خلاف سازش کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہاکہ یہ گروہ منظم مجرمانہ نیٹ ورکس، منشیات پر چلنے والی معیشت، بھتہ خوری اور اسمگلنگ سے مالی مدد لیتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دہشتگردی کی تشہیر اور نوجوانوں کی بھرتی کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ریاست پُرعزم ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال بلند ہے، اور ہم دہشتگردوں، سہولت کاروں اور بیرونی ہینڈلرز سب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کی جانب سے کیے گئے حملے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیے ہیں، اور دو روز میں اب تک 108 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
دوسری جانب دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان خواجہ آصف دہشتگردی سیکیورٹی فورسز وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان خواجہ ا صف دہشتگردی سیکیورٹی فورسز وزیر دفاع وی نیوز سیکیورٹی فورسز خواجہ ا صف نے کہاکہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔