بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے دہشتگرد بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ’آپریشن ہیروف‘ کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا دعویٰ کیا ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ تاہم سیکیورٹی اور انتظامی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر اور مربوط کارروائیوں کے باعث دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی، 12 کور، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی جانب سے اپ گریڈڈ آپریشنز کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ دیگر عناصر دباؤ کے باعث ویران علاقوں اور غیر آباد سڑکوں پر منتشر حالت میں نقل و حرکت پر مجبور ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایل اے اپنے بیرونی ہینڈلرز کی ہدایات پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم تنظیم کی مسلسل ناقص کارکردگی اس کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ ہینڈلرز کو چاہیے کہ وہ ایسی غیر مؤثر تنظیموں میں سرمایہ کاری ترک کریں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان کے دور دراز اور غیر آباد علاقوں میں اسلحہ بردار گروہوں کی محدود نقل و حرکت کو بہادری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عناصر براہِ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کے بجائے غیر مسلح شہریوں، مزدوروں اور عام لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو بزدلانہ طرزِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ’آپریشن ہیروف فیز 2‘ کے نتائج واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ بی ایل اے کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد ناکام رہا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور برتری ثابت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔