Islam Times:
2026-06-02@22:25:23 GMT

امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟

اسلام ٹائمز: پاکستانی قوم کیلئے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ بیانیہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، جذبات اور خوف کی آگ میں بہنا موت کے منہ میں کودنے کے مترادف ہے، ہر خبر اور ہر تصویر کو دھواں سمجھ کر پرکھنا شعور کی تیز دھار ہے۔ اپنے موقف کو دلیل، حقائق اور قومی مفاد کی بنیاد پر ڈھانپنا اور عالمی سطح پر مستقل انداز میں پیش کرنا حکمت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اندرونی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ دیواریں ہیں، جو ہمیں عالمی طوفان کے توپ خانے سے بچا سکتی ہیں، جذبات کی جھیل میں ڈوبنے کے بجائے عقل اور منصوبہ بندی کی تلوار تھامنا، دباؤ کے آگے نہ جھکنا اور اپنی تاریخ خود لکھنا، یہی دانش و بقاء کی نشانی ہے۔ یاد رکھیں کہ دنیا کو بڑی طاقتیں صرف گرم اسلحے سے نہیں چلاتیں، اس کیلئے سوچنے، سمجھنے اور ثابت قدم رہنے والے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جنگ کا خوف محض دھواں ہے، لیکن علم و دانش کی تیز دھار ہر طوفان کو چیر کر راستہ روشن کرسکتی ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

دنیا کو ٹرمپ پر اعتماد نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرے گا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی سیاست اصولوں پر نہیں، مفادات اور سرخیوں پر کھڑی ہے۔ امریکی سیاستدان جنگ کو بھی کاروباری سودے کی طرح دیکھتے ہیں، فائدہ ہوتا نظر آئے تو بیان بازی میں آگے آگے، نقصان کا اندیشہ ہو تو پیچھے پیچھے۔ البتہ ایران کے بارے میں یہ یقین سب کو ہے کہ ایران اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر ے گا۔ جمہوری اسلامی ایران نے انقلاب کے بعد اپنی خود مختاری پر کسی سودے بازی کے بغیر  پابندیاں جھیلیں اور سیاسی و سفارتی تنہائی برداشت کی۔ اس کی ریاستی سوچ جہاں دفاعی ہے، وہیں غُلامی سے کوسوں دور۔ جہاں دنیا کی دیگر ریاستیں دباؤ کے آگے جھک کر وقتی مفادات خرید لیتی ہیں، وہاں ایران نے اپنی مزاحمت و مقاومت سے دنیا کو مسلسل یہ پیغام دیا ہے کہ خودداری کی قیمت ہوتی ہے، یہ بے قیمت نہیں ہوتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی سیاست فوری معاشی مفادات کی اسیر ہے اور ایران کی سیاست طویل المدت مزاحمت کی قائل۔ ایک طرف ٹوئٹس ہیں، جو پالیسی بن جاتے ہیں اور دوسری طرف نظریہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکی ریاست دوسروں پر دباؤ  ڈال کر اپنی ساکھ بچانے کی خاطر طاقت کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہے اور دوسری طرف ایرانی ہیں، جو مقاومت و مزاحمت سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت امریکہ اپنے گرم و نرم اسلحے کے ساتھ ایران کے سامنے آچکا ہے۔ جنگ کا یہ ماحول گرم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ ریاستیں ہیں، جو اس کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی غلبے کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں اور اب ایران اسی انکار کی علامت بن گیا ہے۔

امریکہ کے لیے ایران ایک مسلسل چیلنج کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ایران کا علاقائی اثرورسوخ چاہے وہ عراق، لبنان، فلسطین، شام یا یمن میں ملیشیا کے ذریعے ہی ہو، بہرحال امریکی اثر و رسوخ کے لیے مستقل دھچکا ہے۔ ایرانی مقاومتی اتحادی صرف مقامی تنازعات تک محدود نہیں، وہ امریکہ کے عالمی مفادات، اس کے اتحادیوں اور بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ 1979ء کے بعد کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد کسی دوسرے ملک کے خلاف براہِ راست جارحانہ جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ اس کے باوجود ایران، امریکہ اور اس کے حاشیہ برداروں کی زد پر ہے۔ ان کی طرف سے صبح و شام  یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ ایران دوسرے ممالک پر اپنا انقلاب نافذ کرنے کے درپے ہے۔ وہ ایران کو مسلسل دہشت گرد اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

اس کے برعکس امریکہ نہ صرف دوسری جنگِ عظیم میں جاپان پر دو مرتبہ ایٹم بم استعمال کرچکا ہے، نیز کوریا، ویتنام، عراق، افغانستان، پانامہ، یوگوسلاویہ اور لیبیا سمیت کئی ممالک میں براہِ راست فوجی حملے بھی کرچکا ہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ نواز عناصر کی طرف سے امریکی جارحیت کو قابلِ قبول، جائز اور اخلاقی عمل کے طور پر پیش کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ ایران کا قصور یہ ہے کہ  ایران کا میزائل اور بیلسٹک پروگرام امریکہ کے دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک مسلسل ہراساں کرنے والا عنصر ہے۔ ہر میزائل ٹیسٹ، ہر راکٹ لانچ، امریکی فوجی اور نیوی کی حکمت عملی کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے۔ ایران کی ممکنہ نیوکلیئر صلاحیتیں تو اس خطرے کو عالمی پیمانے پر بڑھا دیتی ہیں، کیونکہ اس سے امریکہ کے لیے ایٹمی توازن کے اصول کو ہر وقت چیلنج کا سامنا ہے۔

ایران کا یہ جرم بھی کوئی کم نہیں کہ سائبر اور ٹیکنالوجیکل محاذ پر بھی ایران امریکہ کے لیے ایک حقیقی رقیب ثابت ہوا ہے۔ وہ امریکہ جو ساری دنیا کی ٹیکنالوجی کی قیادت کرنے کا دعوے دار ہے، اسے ایرانی ہیکرز اور ریاستی سپانسرڈ کی طرف سے گونا گوں پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ایرانی سائبر مہمات کے ماہرین امریکی انفراسٹرکچر، مالیاتی نظام اور دفاعی معلومات پر براہِ راست حملے کرنے کی صلاحیّت رکھتے ہیں اور اسے ثواب اور دفاعی جہاد بھی سمجھتے ہیں، جس سے امریکہ کو اپنے دفاعی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے شب و روز اضطراب کا سامنا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران کی خارجہ پالیسی کا خود مختاری پر مبنی انداز امریکہ کی بالادستی کو ٹھکراتا ہے۔ خلیج فارس میں کسی چھوٹی کشیدگی کی ایک جھڑپ بھی عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کرسکتی ہے، امریکی اتحادیوں کو دباؤ میں ڈال سکتی ہے اور امریکی عسکری کارروائی کے لیے محاذ کھول سکتی ہے۔ ایران کی مستقل حیثیت اور اس کا سفارتی و سیاسی نیٹ ورک، امریکہ کے لیے یہ پیغام ہے کہ امریکی ریاست ہر لمحے ایک ایسے نازک توازن پر کھڑی ہے،  جسے ایران اپنے ایک اشارے سے درہم برہم کرسکتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس ساری صورتحال کا مقابلہ امریکہ جرات، بہادری، شجاعت اور جوانمردی سے نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اگر آپ تجزیہ و تحلیل کریں تو آپ دیکھیں گے کہ امریکی جبر و استبداد نیز مکروہات کیلئے اخلاقی جواز تراشنا باقاعدہ ایک اکیڈمک کارروائی ہے۔ امریکی مظالم کو خوبصورت بیانیوں میں ڈھالنے کیلئے وائٹ ہاؤس، محکمۂ دفاع (پینٹا گون) اور محکمۂ خارجہ جیسے اداروں میں موجود تھنک ٹینکس امریکی تسلط نیز جنگ و جبر کو الفاظ کی تراش خراش سے مہذب اور مداخلت کو اصطلاحات کی آرائش سے معقول بنانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے تھنک ٹینک امریکی حملوں کو دہشت گردی کا ردِعمل اور امریکی سایسی و سفارتی نیز عسکری  و نفسیاتی تشدد کو استحکام کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہ تھنک ٹینکس  بیانیہ بنانے کیلئے مین اسٹریم مغربی میڈیا کو استعمال میں لاتے ہیں، جو کہ  اسٹرٹیجک ابلاغ کا خاموش مگر مؤثر ہتھیار ہے۔

امریکی تھنک ٹینکس کے فراہم کردہ قالب کے اندر رہتے ہوئے میڈیا امریکی تشدد کو تکنیک میں، جنگ کو ضرورت میں اور ہلاکتوں کو اعداد و شمار میں بدل دیتا ہے۔ پھر لوگ امریکی جارحیّت و جبر پر سوال اٹھانے کے بجائے اعداد و شمار گننے اور جنگ کو ایک اسٹرٹیجک آپریشن سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں رائے عامہ، سُر پاورز کے مفاد کی ہم آواز ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کالجز و یونیورسٹیز نیز پالیسی ریسرچ اداروں کا کردار شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ایسے ادارے ہیں، جو اسٹرٹیجک تھنکنگ کی پیداوار کے مراکز کہلاتے ہیں۔ یہ ادارے غیر جانبداری کے لبادے میں جغرافیائی سیاست، طاقت کے خلا اور عالمی استحکام کے بیانیے تراشتے ہیں، جن کے ذریعے مداخلت کو ناگزیر اور جارحیت کو عقلی بنایا جاتا ہے۔ البتہ سیاسی معیشت کا تنقیدی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ یہ علم اکثر ریاستی ڈھانچوں اور دفاعی صنعت کے مفادات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ان اداروں کی تحقیقات میں تجزیہ و تحلیل کا عنصر کم اور تاویل و توجیہ کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔

بالآخر یہ سب عناصر مل کر ایک بین الاقوامی قانونی و ادارہ جاتی نظام کو تشکیل دیتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو اقوامِ متحدہ، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کے طور پر نظر آتا ہے۔ یہ نظام عملاً طاقت کے عالمی عدم توازن کے تابع ہونے کے باوجود بظاہر ضابطۂ قانون اور ریاستی خود مختاری کا امین ہوتا ہے۔ اس نظام کے تحت ویٹو پاور اور سفارتی دباؤ کے ذریعے بڑی طاقتیں قانون کو اپنے مفادات کے حق میں موڑ لیتی ہیں، لیکن کمزور ریاستوں پر یہی قوانین بے رحمانہ انداز میں فوری اور سختی سے نافذ ہو جاتے ہیں۔ ہماری آج کی دنیا میں اگر فلم، ٹیلی وژن، ناول، افسانہ، ڈرامہ، سوشل میڈیا اور پاپولر کلچر نہ ہو تو عام آدمی یہ سب ہضم نہ کرسکے۔ لہذا کیمرے اور قلم کی مدد سے عسکری جبر و استبداد کو نجات، اخلاق اور استحکام کے استعاروں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ثقافتی بیانیہ غلاموں کو غلامی پر رضامند کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تشدد اور جبر ایک فطری ضرورت، دوسروں پر ناجائز غلبہ جائز اور جنگ و جارحیّت قابلِ قبول محسوس ہونے لگتی ہے۔

بالآخر، اکیڈمیا (علمی دنیا) اور لبرل بین الاقوامی اخلاقیات بھی اسی اسٹرٹیجک بیانیے کا حصہ بن جاتی ہیں، جہاں جنگ کو جمہوریت اور انسانیت کے اخلاقی پردوں میں لپیٹ کر جنگ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ امریکہ کے ایٹمی حملے، جن میں لاکھوں شہری ہلاک ہوئے، آج بھی اکثر تاریخی مجبوری یا جنگی ضرورت کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، نہ کہ ریاستی دہشت گردی کے طور پر۔ اکیڈمیا (علمی دنیا) امریکی اسٹرٹیجک بیانیے میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جہاں جنگ اور عسکری مداخلت کو اخلاقی اور نظریاتی رنگ دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی پروفیسرز، تحقیقی مراکز اور علمی جرائد نہ صرف نظریاتی فریم ورک (فکری ڈھانچہ) فراہم کرتے ہیں، بلکہ ان کے تجزیے امریکی پالیسی سازوں کے لیے جواز بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کے دوران بعض محققین نے اسے "انسانی ہمدردی پر مبنی مداخلت" اور "جمہوریت کے فروغ" کے عنوانات سے پیش کیا، جس سے عوامی اور بین الاقوامی رائے میں اسے جائز اور اخلاقی قرار دینے کی بنیاد رکھی گئی۔

مزید برآں، کئی تحقیقی ادارے جیسے بروکنگز انسٹیٹیوٹ اور کارنیگی اینڈاؤمنٹ، بظاہر غیر جانبدار علمی رپورٹیں شائع کرتے ہیں، لیکن ان میں تحقیقی تجزیات طاقت کے مفادات کے مطابق رنگین ہو جاتے ہیں۔ امریکی اکیڈمیا (علمی دنیا) نہ صرف دنیا بھر میں امریکی عسکری مداخلت کے لیے نظریاتی جواز فراہم بھی کرتی ہے اور عوام اور پالیسی سازوں کے ذہن میں جنگ کو اخلاقی اور فطری عمل کے طور پر قبول کروانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ یہ علمی دائرہ بیانیاتی غلبے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جہاں اخلاقی اور فکری زبان طاقتوروں کیلئے ہتھیار بن جاتی ہے۔ پس "امریکی جارحیت کی دنیا میں مقبولیت" کسی ایک ادارے کے بجائے ایک ہمہ گیر اسٹرٹیجک و سیاسی نظام کا ثمر ہے۔ یہ ایسا نظام ہے، جو کمالِ مہارت کے ساتھ عوامی زبان سے اپنے لئے جواز، عالمی قانون سے تحفظ، علمی مراکز سے توثیق، میڈیا سے اشاعت اور ثقافت سے قبولیت حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو دنیا میں ہر جگہ امریکی بندوق کے ہمراہ مفہوم، معنی اور تشریح کی نرم جنگ نظر آئے گی۔

اب دوسری طرف ایران امریکی بیانیہ ساز اداروں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ریاست، میڈیا، تھنک ٹینکس اور اکیڈمیا۔۔۔ کا مقابلہ متبادل بیانیہ (Counter‑Narrative) کی تشکیل کے ذریعے جاری ہے۔ جہاں امریکہ اپنی طاقت کو "عالمی نظم" اور "ذمہ دار قیادت" کے طور پر پیش کرتا ہے، وہاں ایران نے لمحہ بھر کیلئے بھی "مزاحمتی سیاست" اور "خود مختاری کی حفاظت" سے غفلت نہیں کی۔ جس کی وجہ سے ایران کی عسکری حیثیت کو دنیا میں  اخلاقی طاقت بھی مل چکی ہے۔ ریاستی سطح پر ایران کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا انقلابی و سامراج مخالف بیانیہ ہے۔ ایرانی قیادت امریکہ کو ایک مداخلت پسند، سامراجی اور دوہرے معیار رکھنے والی طاقت کے طور پر بے نقاب کرتی ہے، خاص طور پر فلسطین، عراق اور افغانستان کی مثالوں کے ذریعے۔ یہ بیانیہ امریکی خارجہ پالیسی کے اخلاقی دعوؤں کو ملیامیٹ کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ قانون نہیں بلکہ مفادات کی پیروی کرتا ہے۔

میڈیا کے محاذ پر بھی ایران مغربی مین اسٹریم میڈیا کا مقابلہ ریاستی و نیم ریاستی بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے کرتا ہے، جیسے پریس ٹی وی اور العالم۔ یہ میڈیا ادارے امریکی خبروں کے پس پردہ حقائق کو سامنے لاتے ہیں۔ جہاں امریکہ "سکیورٹی" کی بات کرتا ہے، وہاں یہ میڈیا "تباہی" کے حقیقی مناظر دکھاتا ہے، جہاں امریکہ "مداخلت" کو ناگزیر کہتا ہے، وہاں یہ "خود مختاری کی پامالی" کے دلائل بیان کرتا ہے۔ ایرانی چینلز عالمی رسائی محدود ہونے کے باوجود امریکی بیانیے کی اجارہ داری کا مکمل توڑ کرتے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس اور علمی اداروں کے مقابلے میں ایران روایتی مغربی اکیڈمیا کا حصہ بننے کے بجائے نظریاتی مزاحمت کی حکمت عملی اپناتا ہے۔ ایرانی دانشور اور ادارے بین الاقوامی تعلقات کو لبرل یا ریئلسٹ فریم کے بجائے سامراج مخالف، تہذیبی اور تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ اس زاویئے سے امریکہ ایک جمہوری ریاست کے بجائے ایک استبدادی نظام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ طریقہ کار مغربی اکیڈمک معیار پر پورا نہ بھی اترے، تب بھی وہ ایک متبادل فکری میدان قائم کر دیتا ہے۔

ثقافتی سطح پر ایران فلم، ادب، مذہبی خطابت اور علامتی سیاست کے ذریعے امریکی بیانیے کا مقابلہ کرتا ہے۔ "شہادت"، "مزاحمت" اور "قربانی" جیسے تصورات کو مرکزی مقام دے کر ایران طاقت کے مغربی تصور کو چیلنج کرتا ہے، جہاں کامیابی کا معیار عسکری برتری ہوتی ہے۔ اس سے موت بھی زندگی بن جاتی ہے۔ آخرکار، ایران کی سب سے مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ وہ امریکی بیانیے کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اسے متنازع و منفور بنا دیتا ہے۔ ایران اپنے محدود وسائل کے ساتھ امریکی بیانیے کی عالمگیریت کو توڑنے میں بڑی حد تک کامیاب چلا آرہا ہے۔ ایران اور امریکہ کی معاصر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بیدار اقوام صرف گرم اسلحے سے جنگیں نہیں لڑتیں، بلکہ میدان جنگ میں اترنے کے ساتھ ساتھ وہ بیانیہ سازی کیلئے مقالات بھی لکھتی ہیں اور اصطلاحات کے معنی بھی طے کرتی ہیں۔

آئیے آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں بحیثیتِ پاکستانی ہم نے امریکہ و ایران کے باہمی خلفشار سے کچھ سیکھا ہے یا نہیں۔؟ کیا ہمیں یہ بات سمجھ آئی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر زمین و آسمان کو خاک میں ملانے سے دریغ نہیں کرتیں اور ہم جیسے لوگ ان جنگوں میں غلیل کے پتھروں کی مانند استعمال ہوتے ہیں۔ نیز کیا ہمیں یہ حقیقت سمجھ آئی ہے کہ اندرونی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ واحد دیواریں ہیں، جو عالمی طوفان کے توپ خانے کے اثرات سے بچا سکتی ہیں اور اگر یہ ٹوٹ جائیں تو ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ دیا جائے گا۔ پاکستانی قوم کے لیے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ بیانیہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، جذبات اور خوف کی آگ میں بہنا موت کے منہ میں کودنے کے مترادف ہے، ہر خبر اور ہر تصویر کو دھواں سمجھ کر پرکھنا شعور کی تیز دھار ہے۔

اپنے موقف کو دلیل، حقائق اور قومی مفاد کی بنیاد پر ڈھانپنا اور عالمی سطح پر مستقل انداز میں پیش کرنا حکمت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اندرونی سکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ دیواریں ہیں، جو ہمیں عالمی طوفان کے توپ خانے سے بچا سکتی ہیں، جذبات کی جھیل میں ڈوبنے کے بجائے عقل اور منصوبہ بندی کی تلوار تھامنا، دباؤ کے آگے نہ جھکنا اور اپنی تاریخ خود لکھنا، یہی دانش و بقاء کی نشانی ہے۔ یاد رکھیں کہ دنیا کو بڑی طاقتیں صرف گرم اسلحے سے نہیں چلاتیں، اس کیلئے سوچنے، سمجھنے اور ثابت قدم رہنے والے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جنگ کا خوف محض دھواں ہے، لیکن علم و دانش کی تیز دھار ہر طوفان کو چیر کر راستہ روشن کرسکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی بیانیے امریکہ کے لیے بین الاقوامی کی تیز دھار خود مختاری تھنک ٹینکس بڑی طاقتیں امریکہ کی کے باوجود کہ امریکہ کا مقابلہ کے طور پر سب سے بڑا جاتے ہیں بڑی طاقت کرتے ہیں کے بجائے دیتے ہیں دنیا میں کے ذریعے کی سیاست ایران کا ایران نے ایران کی یہ ہے کہ ہیں اور ہوتی ہے دنیا کو جاتا ہے دباؤ کے کرتا ہے طاقت کے دیتا ہے سکتی ہے کے ساتھ جنگ کو اور اس جنگ کا ہیں کہ کے بعد میں یہ ہے اور

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار