ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: امریکی اسکواڈ کا اعلان، سابق سری لنکن کھلاڑی جے سوریا بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
امریکا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گزشتہ ایڈیشن کے 10 کھلاڑیوں سمیت 15 رکنی اسکواڈ کی قیادت ایک مرتبہ پھر مونانک پٹیل کریں گے۔
کپتان مونانک پٹیل کے علاوہ جَیسی سنگھ، اینڈریز غوث، ملند کمار، شایان جہانگیر، ہرمیت سنگھ، نوستھش کینجیگے، شیڈلی وان شالکوئک، سوربھ نیتھراوالکر اور علی خان وہ کھلاڑی ہیں جو ایک بار پھر اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
The Monank Patel-led USA team will look to pose a strong challenge at the #T20WorldCup ????
More on the squad ???? https://t.
2024 کے ایڈیشن میں اینڈریز غوث نے 219 رنز بنا کر بیٹنگ میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھی جبکہ سوربھ نیتھراوالکر 6 وکٹیں لے کر ٹیم کے کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ شبھم رنجانے کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کا موقع ملنے کا امکان ہے، جبکہ پاکستانی نژاد محمد محسن اور سابق سری لنکن آل راؤنڈر شیہان جے سوریا بھی امریکا کے لیے پہلی بار بین الاقوامی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔
Shehan Jayasuriya, who played 12 ODIs and 18 T20Is for Sri Lanka between 2015 and 2020, is set to make his debut for the USA at the upcoming #T20WorldCup ????????
Full story: https://t.co/16w5ceKkzv pic.twitter.com/6FamUss4d5
گروپ اے میں شامل امریکا کو گروپ مرحلے میں بھارت، پاکستان، نیدرلینڈز اور نمیبیا کا سامنا ہوگا۔
امریکی ٹیم 7 فروری کو ممبئی میں بھارت کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکا نے 2024 میں اپنے ڈیبیو ورلڈ کپ میں سپر 8 مرحلے تک رسائی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔