data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260201-03-3
کراچی ایک بار پھر اپنے جینے کے حق کے لیے سڑکوں پر آنے کو ہے۔ جماعت ِ اسلامی کے تحت آج سہ پہر 3 بجے شاہراہِ فیصل پر منعقد ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ اہل ِ کراچی کے صبر، محرومی اور اجتماعی شعور کی توانا آواز ہے۔ اس مارچ کی تیاریاں اور انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں، کراچی کے تاجروں نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے، خواتین کی شمولیت اس تحریک کو مزید وسعت دے رہی ہے، جبکہ امیر جماعت ِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا خصوصی خطاب اس جدوجہد کو فکری سمت دے گا اور امید کی جارہی ہے کہ کراچی کے حوالے سے وہ کوئی بڑا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ امیر جماعت ِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی شہر بھر میں عوامی رابطہ مہم جاری ہے۔ سیکڑوں مساجد کے باہر اور اہم عوامی مقامات پر احتجاجی مظاہرے، ہزاروں ہینڈ بلز کی تقسیم اور شہریوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت، یہ سب اس امر کا ثبوت ہیں کہ کراچی اب مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں ہے۔ شہر کے تاجر، محنت کش، خواتین اور نوجوان سب ایک ہی سوال اٹھا رہے ہیں: کیا کراچی کے باسی جینے کے حق سے بھی محروم رہیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 18 برس سے سندھ پر قابض صوبائی حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ جھوٹے دعووں اور کھوکھلے وعدوں کے سوا شہریوں کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ شہر کا بنیادی انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، حالانکہ کراچی پورے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نصف سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، سردیوں میں بھی 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، اور بی آر ٹی ریڈ لائن کے نام پر یونیورسٹی روڈ کو کھود کر شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ جہانگیر روڈ سمیت اہم شاہراہیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ جسارت ڈیجیٹل پر ہر کچھ دنوں پرکراچی کے انفرا اسٹریکچر پر رپورٹ بن رہی ہے۔ یہی نہیں، شہری کبھی کھلے گٹروں میں گر کر جان سے جاتے ہیں تو کبھی ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرالرز کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال ہیوی ٹریفک کے حادثات میں 857 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ اسٹریٹ کرائم روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کسی ایک حادثے یا وقتی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، منظم اور مجرمانہ لاپروائی کی داستان ہے اور پیپلز پارٹی صرف کراچی میں باتیں کرہی ہے۔ ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ دراصل شہر کی ضرورت ہے اور ضرورت اس امر کی بھی ہے کے عوام بڑی تعداد میں اس مارچ میں شریک ہوکر اپنا احتجاج رکارڈ کرائیں کیونکہ زندہ معاشرے کی یہی نشانی ہے کہ وہ مزاحمت کرتی ہے اور مزاحمت و جدوجہد ہی آپ کو جائز حق دلاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے
پڑھیں:
کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
— فائل فوٹوکراچی کے علاقے ملیر 15 میں رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے بھتہ خوروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔
اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق بھتہ خوروں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایس آئی یو کے ہمراہ کارروائی کی گئی تو وہاں موجود بھتہ خوروں نے رینجرز اور ایس آئی یو کی نفری پر حملہ کر دیا۔
ڈاکٹر آکاش سے 13جولائی کو ہلاک ڈاکوؤں نے کلفٹن میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بینک کے باہر لوٹ مار کی تھی۔
ترجمان کے مطابق اس کے بعد مزید نفری کو طلب کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک ہو گئے جبکہ 1 کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے بھتہ خوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ملزمان سے اسلحہ، موبائل فون اور موٹر سائیکل ملی ہے۔