گھورنے کو نہیں ایک ساتھ تین طلاقوں کو جرم بنائیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلامی معاشرے میں نکاح کو پاکیزہ رشتہ اور خاندان کو سماج کی بنیادی اکائی قرار دیا گیا ہے، جبکہ طلاق کو حلال میں سب سے ناپسندیدہ عمل کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان واقعی اسی اسلامی تصورِ معاشرہ پر کھڑا ہے یا ہم محض مذہب کا نام لے کر ایسے قوانین بنا رہے ہیں جو نہ اسلام کے قریب ہیں، نہ عدل کے تقاضوں پر پورا اُترتے ہیں اور نہ ہی معاشرتی حکمت کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ جن کا اصل مقصد عالمی اداروں اور بیرونی طاقتوں کو خوش کرنا نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں عورت کمزور ہے، مگر اس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ کرپشن، بدعنوانی، ناانصافی اور اسلامی شرعی نظام کے مطابق ریاست کا قائم نہ ہونا ہے۔ عورت یہاں اس لیے غیر محفوظ نہیں کہ شوہر اسے گھورتا ہے بلکہ اس لیے کہ تھانے بکتے ہیں، عدالتیں برسوں فیصلے نہیں کرتیں اور طاقتور ہر قانون سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ مسئلہ مرد کی ایک نظر نہیں بلکہ ریاست کی اندھی آنکھ ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی وہ پارلیمنٹ، جس کے بارے میں خود عوام یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ وہ فارم سینتالیس، دھاندلی اور اخلاقی بحران کے بوجھ تلے وجود میں آئی، یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ عورت کو تحفظ دینے جا رہی ہے۔ مگر کس طرح۔ ایسے قوانین بنا کر جو خاندان کو فوجداری مقدمہ بنا دیں، شوہر اور بیوی کے درمیان ہر اختلاف کو جیل اور عدالت تک لے جائیں اور عورت کو تحفظ دینے کے بجائے مزید تنہائی اور عدم تحفظ کی طرف دھکیل دیں۔
مغرب کی مثال دی جاتی ہے، مگر وہ بھی آدھی اور منافقانہ۔ برطانیہ جیسے مغربی معاشرے میں عورت کو مکمل قانونی، معاشی اور سماجی تحفظ حاصل ہے۔ وہ چاہے شوہر کے ساتھ رہے، بچوں کے ساتھ اکیلی زندگی گزارے یا بالکل آزاد ہو، ریاست ہر صورت اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ رہائش، مالی مدد، قانونی معاونت اور سماجی تحفظ وہاں محض نعرے نہیں بلکہ ریاستی ذمے داری ہیں۔ اسی لیے وہاں بیوی کو گھورنا جرم نہیں، طلاق کی بات کرنا جرم نہیں اور ازدواجی اختلاف کو فوجداری قانون میں تبدیل نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہاں قانون کا مقصد خاندان توڑنا نہیں بلکہ تنازع کم کرنا اور فرد کو سہارا دینا ہوتا ہے۔ اب پاکستان کو دیکھیے۔ یہاں عورت شوہر سے الگ ہو جائے تو نہ محفوظ رہائش ملتی ہے، نہ مستقل مالی سہارا اور نہ فوری انصاف۔ اس کے باوجود قانون ساز یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر شوہر گھورے گا تو جیل اور اگر طلاق کی بات کرے گا تو سزا۔ یہ کیسا تحفظ ہے اور کس عقل کی پیداوار ہے۔
پاکستان کے نئے قانون میں بیوی کو گھورنا جرم قرار دیا گیا ہے اور طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو فوجداری جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہ شقیں ہیں جو نہ صرف مغرب میں موجود نہیں بلکہ خود مغربی قانونی معیار کے مطابق غیر سنجیدہ اور غیر عملی سمجھی جاتی ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو گھورنے کے بعد مرد کو لاک اپ میں ڈال دینے سے عورت واقعی محفوظ ہو جائے گی۔ کیا دھمکی کو جرم بنا دینے سے گھر بچ جائیں گے۔ یا پھر ہر گھریلو جھگڑا ایک ایف آئی آر بن جائے گا اور ہر عورت ایک عدالتی فائل میں بدل دی جائے گی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب ان قوانین کے نتیجے میں عورت تنہا رہ جائے گی تو یہی ریاست، یہی عدالتیں اور یہی نظام خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ عورت نہ خاندان میں محفوظ رہے گی نہ ریاست میں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ اسلامی حل کہاں ہے۔ اگر واقعی مقصد عورت اور خاندان کا تحفظ ہے تو قانون سازوں کو سب سے پہلے اس دھوکا دہی کا خاتمہ کرنا چاہیے تھا جس کے مطابق پاکستان کا قیام اسلامی نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا اور یہاں قرآن و سنت کے مطابق نظام نافذ ہونا تھا۔ اگر نیت درست ہوتی تو سب سے پہلے وہ قوانین نافذ کیے جاتے جن میں عورت ہی نہیں بلکہ اس کے بچوں، شوہر، تمام انسانوں بلکہ جانوروں تک کے تحفظ کی ضمانتیں موجود ہیں۔
اسلامی حل یہ نہیں کہ گھورنے کو جرم بنا دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ عدل کو ریاست کی بنیاد بنایا جائے۔ اسلامی حل یہ ہے کہ اس شخص کو سزا دی جائے جو شریعت ِ محمدی کا مذاق اُڑاتے ہوئے ایک ہی سانس میں تین طلاق کے الفاظ زبان یا قلم سے نکال کر پورا گھر اجاڑ دیتا ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق اگرچہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، مگر یہ عمل خلاف سنت، سخت ناپسندیدہ اور تعزیری سزا کا مستحق ہے۔ رسول اکرمؐ نے بیک وقت طلاق کے الفاظ ادا کیے جانے پر شدید ناراضی کا اظہار فرمایا۔ سوال یہ ہے کہ گھورنے والے کے لیے جیل ہے مگر شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا آزاد کیوں۔ یہ کیسا عدل ہے اور یہ کیسا اسلام ہے۔ کیا واقعی یہ قوانین عورت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں یا عالمی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے، بیرونی فنڈنگ کے حصول اور چندا دہندگان کے سامنے خود کو ترقی پسند ثابت کرنے کی کوشش ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خاندان کو توڑ کر کوئی معاشرہ مضبوط نہیں ہوتا۔ عورت کو حقیقی تحفظ تب ملتا ہے جب ریاست عادل ہو، قانون منصفانہ ہو اور شریعت کو مذاق نہیں بلکہ میزانِ عدل سمجھا جائے۔ نہ جانے وہ دن کب آئے گا جب اس ملک کے فیصلہ ساز یہ سچ دل سے تسلیم کریں گے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا واحد اور مستقل حل مکمل اسلامی نظام اور شرعی قوانین کے منصفانہ نفاذ میں ہے، اور جس دن یہ فیصلہ خلوص نیت سے کر لیا گیا اس دن آسمان سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی، زمین اپنی برکتیں اْگل دے گی اور یہ قوم امن، عدل اور حقیقی خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوال یہ ہے کہ نہیں بلکہ ہیں بلکہ کے مطابق عورت کو کے ساتھ اور یہ ہیں کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز