عراق میں لاکھوں بھارتیوں کا اسرائیل کیلیے جاسوسی کر نے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی سطح پر نامور سیاسی و سیکورٹی تجزیہ کار مہند سلومی نے انکشاف کیا ہے کہ عراق میں بھارتی شہری اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحا یونیورسٹی میں سیکورٹی اسٹڈیز پروگرام کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جرنل آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر مہند سلومی نے قطر میں ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عراق میں بہت سارے بھارتی شہری اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں‘ 15 لاکھ کہ قریب بھارتی اسرائیل کے لیے جاسوسی کا کام کرتے ہیں۔ صحت اور عراقی فوج جیسے شعبوں میں بھی بھارتی جاسوس گھُسے ہوئے ہیں‘ ان اداروں میں صفائی کرنے والے عملے تک اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ عراق بھارت کو دوست ملک سمجھتا ہے‘ بھارت یہ گھناؤنا کام اسلحہ حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیل نے پاکستان پر برتری حاصل کرنے کی متعدد کوشش کی لیکن پھر بھی وہ ناکام رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کے لیے جاسوسی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔