پنجاب، پاکستان کی پہلی ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
صوبہ پنجاب میں پاکستان کی پہلی ایگری کلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی قائم کردی گئی۔
لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی ایگری کلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی افتتاحی سے خطاب کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے حفظانِ صحت کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے قیام کو اہم قرار دے دیا۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی خدمت کے لیے بنائی گئی ہے، اتھارٹی فوڈ سیکیورٹی، غذائیت کی فراہمی اور ملاوٹ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ خوراک، زرعی مصنوعات اور ادویات کی شفاف نگرانی کے لیے ریگولیٹری ادارے کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا زرعی ملک ہونے کے باوجود عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیب نہ ہونا لمحۂ فکریہ تھا، جدید لیب نہ ہونے سے برآمدکنندہ اور صارف دونوں نقصان اٹھا رہے ہیں۔
تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ خواتین سائنس دانوں کے لیے تعمیر ہاسٹل کا افتتاح کیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔