جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران WhatsAppFacebookTwitter 0 1 February, 2026 سب نیوز

تہران: (آئی پی ایس) ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ جنگی فضا کے برخلاف امریکا کے ساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے.

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے کہا کہ جنگی بیانیے کے شور کے باوجود مذاکراتی عمل کیلئے عملی انتظامات آگے بڑھ رہے اور مذاکرات کیلئے ساختی انتظامات میں پیشرفت جاری ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بحری بیڑہ تعینات کر دیا ہے، اور اس حوالے سے امریکی صدر ایرانی قیادت کو مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ یہ جنگی جہاز تیزی سے ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران بھی امریکا کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت نتائج بھگتنے کی وارننگ جاری کرچکا ہے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی اتوار سے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر رکھا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقوی پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں: محسن نقوی آبی معاہدہ محفوظ نہیں تو کوئی بھی معاہدہ محفوظ نہیں، پاکستانی مندوب امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار ایرانی سپریم لیڈر کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے، صدر کے ہمراہ امام خمینی کے مزار پر حاضری بلوچستان میں فورسز کا آپریشن مکمل: دو دن میں 133 دہشتگرد ہلاک، 15 جوان شہید امن پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، شہداکے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے: وزیراعلی بلوچستان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار