ورلڈ کپ ٹی20: پاکستان کی شرکت سے متعلق فیصلہ آج متوقع، پلان بی بھی تیار
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
پاکستان کی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے آج اہم فیصلہ متوقع ہے، جس کا اعلان وزیر اعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے حتمی فیصلے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ورلڈ کپ کٹ کی رونمائی کی تقریب گزشتہ روز اچانک منسوخ کر دی گئی تھی، جس کے بعد ٹیم کی شرکت کے حوالے سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
پاکستان کو ورلڈ کپ کے گروپ اے میں بھارت، نیدر لینڈ، امریکا اور نمیبیا کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق پاکستان کا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈ کے خلاف شیڈول ہے جبکہ پاک بھارت بڑا مقابلہ 15 فروری کو کولمبو میں رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے اہم اعلان کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی شرکت کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو ٹیم کٹ کی رونمائی بھی جلد کی جائے گی۔ تاہم، ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں پی سی بی نے پلان بی بھی تیار کر رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق پلان بی کے تحت پاکستان، پاکستان شاہینز اور انڈر 18 ٹیموں کا متبادل ٹورنامنٹ لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی کے مطابق ورلڈ کپ
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :