ایرانی ترجمان خارجہ کی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ غزہ و مغربی کنارے میں صیہونی جرائم کا نہ تھمنے والا سلسلہ، فلسطین میں اُس 80 سالہ استعماری نسل کُش پالیسی کی واضح علامت ہے جسکی امریکہ، جرمنی و برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک حمایت کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ واضح رہے كہ اسرائیل نے غزہ كی پٹی میں فلسطینی مہاجر کیمپوں، رہائشی علاقوں اور پولیس کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس میں 6 بچوں سمیت 30 سے زائد افراد شہید ہو گئے۔ جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" نے شدید ردعمل دیا۔ انہوں نے صیہونی جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، غزہ کی عوام کے قتل عام کے تسلسل اور گزشتہ 110 دنوں میں 524 فلسطینیوں کے شہادت کا ذکر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ غزہ و مغربی کنارے میں صیہونی جرائم کا نہ تھمنے والا سلسلہ اور اس پٹی میں خوراک و ادویات کی ترسیل کو روکنا، فلسطین میں اُس 80 سالہ استعماری نسل کُش پالیسی کی واضح علامت ہے جس کی امریکہ، جرمنی و برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک حمایت کر رہے ہیں۔
بیان میں اسماعیل بقائی نے شہداء کے خاندانوں اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ اس صورتحال کے تناظر میں انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ، اس کے سیکرٹری جنرل اور جنگ بندی میں ضامن فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانیت سوز جرائم اور بار بار سیز فائر کی خلاف ورزیوں کرنے پر غاصب صیہونی رژیم کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ اسماعیل بقائی نے اپیل کی کہ فوری طور پر فلسطینیوں کی نسل کشی روکی جائے، قابض فورسز غزہ سے نکل جائیں، رفح کراسنگ مکمل طور پر بحال کی جائے اور آخر میں غزہ کی پٹی میں بلامشروط انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے سمیت یہاں تعمیر نو کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسماعیل بقائی انہوں نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔