گورنر سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو مفت پلاٹ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
گورنر سندھ کا گورنر ہاؤس کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو اب کراچی کے فیصلے خود کروانے چاہئیں اور اگر وفاق اور صوبہ اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتے تو گورنر ہاؤس یہ ذمہ داری نبھائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو مفت پلاٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے ٹیکس کی مد میں خطیر رقم جمع کی جاتی ہے مگر بدقسمتی سے یہ وسائل شہر پر خرچ نہیں ہوتے جس کے باعث سانحات کے وقت انتظامیہ کے پاس جانیں بچانے کے لیے بھی مناسب وسائل موجود نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو اب کراچی کے فیصلے خود کروانے چاہئیں اور اگر وفاق اور صوبہ اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتے تو گورنر ہاؤس یہ ذمہ داری نبھائے گا۔
سانحہ گل پلازہ کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ کلو راکھ دی گئی جو شہر کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کی عکاسی کرتا ہے۔ مرنے والوں کی قیمت کا تعین ختم ہو چکا ہے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر انتظامات ناگزیر ہیں مگر انتظامیہ اس حوالے سے خاموش ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ یہاں سے جمع ہونے والے ٹیکس کا 5 فیصد بھی شہر پر خرچ نہیں ہوتا اس لیے متاثرین کے مسائل کا فوری حل نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گل پلازہ سانحے کے ذمہ دار تمام متعلقہ حکومتی ادارے، یوسی ناظم، ٹاؤن ناظم اور میئر کراچی ہیں۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ انہوں نے بلڈرز سے بات کی ہے تاکہ متاثرین کو بلا معاوضہ پلاٹ فراہم کیے جا سکیں۔ شہر میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ کے متاثرین گورنر سندھ کا گورنر ہاؤس نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔