پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر آسٹریلوی کپتان نے کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش نے پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس فی الحال کچھ کہنے کو نہیں، کیونکہ ٹیم کی توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز ہے اور اسی ایونٹ کی تیاری اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی20: پاکستان نے آسٹریلیا کو 111 رنز سے شکست دے کر 7 سال بعد سیریز میں وائٹ واش کرلیا
پاکستان کے خلاف ٹی20 سیریز میں شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم پاکستان ٹی 20 سیریز جیتنے کے مقصد سے آئی تھی، تاہم شکست کے بعد ٹیم کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں پاکستان ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا اور کامیابی کا مکمل کریڈٹ قومی ٹیم کو جاتا ہے۔
آسٹریلوی کپتان کا کہنا تھا کہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں پاکستان نے آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کیا، جبکہ سیریز کے دوران آسٹریلوی ٹیم کو کئی پہلوؤں میں سیکھنے کا موقع ملا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا
مچل مارش نے مزید کہا کہ آسٹریلوی ٹیم مجموعی طور پر اچھی ہے، تاہم اب ٹیم بیٹھ کر اس بات کا جائزہ لے گی کہ کہاں اور کن مواقع پر غلطیاں ہوئیں تاکہ آئندہ بہتر کارکردگی پیش کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلیا بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کرکٹ مچل مارش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کرکٹ مچل مارش مچل مارش کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔