اسلام ٹائمز: اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق، اقتصادی میدان میں، رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے فریم ورک کے اندر، امارات اسرائیل سے تجارتی سامان خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے اور "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" (امریکہ سے وابستہ) کے مراکز کو غزہ کی پٹی میں نجی منڈیوں میں سامان کی فراہمی کے مراکز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات چیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کی براہ راست ذمہ داری اسرائیل سے ان علاقائی طاقتوں کو منتقل کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، جو مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر اقتصادی امن کے امکانات اور ابراہیم معاہدے (اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ) کی توسیع کے مطابق ہے۔ تحریر: محمد رضا احمدی

اسرائیلی چینل 12 ٹی وی نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ پٹی کے سویلین سیکٹر کا انتظام ابوظہبی کے حوالے کرنے سے متعلق مذاکرات آخری مراحل میں پہنچ گئے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی انٹرنیشنل گروپ کے مطابق، ٹی وی چینل 12 نے اتوار کو ایک خصوصی رپورٹ میں اعلان کیا کہ فریقین نے غزہ کی پٹی میں ایک نئے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے کے قیام کے مقصد سے ایک باضابطہ معاہدے کے مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اس صہیونی نیٹ ورک نے اعلان کیا کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور عرب ممالک ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیر غور منصوبوں میں غزہ کے اندر تجارتی اور کمرشل منڈیوں کو کنٹرول کرنے سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے میں لاجسٹک اور سکیورٹی سپورٹ سے متعلق امور کے لیے اماراتی افواج اور امریکی سکیورٹی کمپنیوں کے عناصر کی غزہ روانگی بھی شامل ہے۔ مزاحمتی گروپ اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) غزہ پٹی میں کسی بھی غیر ملکی انتظامیہ کی "قومی معاہدے" کے دائرہ کار سے باہر ہونے کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ اس طرح کے کسی بھی عمل کو اسرائیلی نگرانی میں دینے کو صیہونی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، چاہے وہ عرب ممالک کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔

مڈل ایسٹ آئی کی ویب سائٹ نے حال ہی میں مغربی اور عرب ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات غزہ پٹی کی آف شور قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اس علاقے کی تعمیر نو کے لیے استعمال کرنے کے امکان پر بات کر رہے ہیں، جو حالیہ جنگ میں تباہ ہوگیا تھا۔ ذرائع نے واضح کیا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ابھی تک کوئی باضابطہ عزم ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم تعمیر نو کے لیے فلسطینی گیس سے فائدہ اٹھانے کا خیال اسی دسمبر میں دوبارہ اٹھایا گیا۔

اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق، اقتصادی میدان میں، رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے فریم ورک کے اندر، امارات اسرائیل سے تجارتی سامان خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے اور "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" (امریکہ سے وابستہ) کے مراکز کو غزہ کی پٹی میں نجی منڈیوں میں سامان کی فراہمی کے مراکز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات چیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کی براہ راست ذمہ داری اسرائیل سے ان علاقائی طاقتوں کو منتقل کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، جو مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر اقتصادی امن کے امکانات اور ابراہیم معاہدے (اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ) کی توسیع کے مطابق ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل سے اسرائیل کے کے مطابق کے مراکز پٹی میں غزہ کی چینل 12

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان